سٹی42: ایبٹ آباد میں پون کلو گرام سونے کی وجہ سے قتل کر دی گئی خاتون ڈاکٹر وردہ کے کیس میں مزید پیشرفت سامنے آئی ہے۔
پہلے یہ اطلاع اائی تھی کہ مظلوم ڈاکتر کے قتل میں ملوث ایک مفرور پولیس انکاؤنٹر میں مارا گیا ہے۔ آج یہ خبر آئی ہے کہ گرفتار ملزموں میں سے ایک نے قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔
گرفتار ملزم پرویز نے اقبال جرم کر لیا۔ جبکہ پولیس نے ملزموں کی ایک بار پھر حوالگی کے لیے ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی ، اہم نوعیت کا کیس ہے ملزموں کی کسٹڈی دی جائے ، انوسٹیگیشن آفیسر نے جسمانی ریمانڈ کے لئے ہائیکورٹ میں استدعا کر دی ہے۔
اب پولیس بتا رہی ہے کہ اس سنگین جرم کا منصوبہ ساز دراصل ملزمہ ردا کا شوہر وحید عرف بِلا ہے۔ پہلی پولیس ردا کو مرکزی ملزم قرار دیتی رہی۔ آج یہ پیش رفت بھی سامنے ٓٓئی کہ پولیس نے ملزمہ ردا جدون کے شوہر وحید بلا کے قبضے سے مقتولہ خاتون ڈاکٹر کا سونا بھی برآمد کر لیا۔
ملزموں کے قبضے سے 10 رسیدیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔
ان قاتلوں کی نشاندہی پر آلہ قتل، وہ رسی جس سے ڈاکٹر وردہ کو گلے مین پھندا لگا کر قتل کیا گیا تھا۔ وہ بھی برآمد کر لی گئی ہے۔
ملزموں کے قبضے 01 کروڑ 23 لاکھ کے چیک بھی برآمد ہوئے ہیں۔
جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے ارکان نے ملزموں سے تفتیش میں جائے وقوعہ اور جرم کی پلاننگ کے مقامات کی نشاندہی سمیت تفتیش کے بیش تر قانونی لوازمات مکمل کر لیے ہیں۔
ملزموں نے ڈاکٹر وردہ کو اغوا اور قتل کرنے کے لیے منصوبہ ملزم وحید بلا کے گھر بنایا تھا ، جس میں وحید بلا ، اس کی بیوی ردہ اور کم از کم ایک اجرتی قاتل ندیم شامل تھے۔
اس قتل کی دوسری منصوبہ بندی مرکزی ملزم وحید بلا کی دوکان پر ہوئی جس میں وحید بِلا کے ساتھ قتل میں شریک اجرتی لوگ وحید ، ندیم اور شمعریز شامل تھے ۔ اس منصوبہ پر عمل کرنے سے پہلے تیسری بار سفاک قاتلوں کا یہ گروہ شیخ ڈھیری کے مقام پر جمع ہوا۔ وہاں شمعریز ، ندیم اور پرویز نے پلان کو حتمی شکل دی ۔
مقدمہ میں تفتیشی ٹیم نے تمام ثبوت اور گواہوں کے بیانات عدالت میں پیش کر دئیے ۔