ملک اشرف : پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں سول سروسز اکیڈمی کے زیرِ تربیت افسران کے لئے تاریخ میں پہلی مرتبہ دو روزہ خصوصی لیکچر کا اہتمام ، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے زیر تربیت افسران کو تفصیلی لیکچر دیا ۔
پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں تاریخ میں پہلی مرتبہ پنجاب سول سروسز اکیڈمی کے زیرِ تربیت افسران کے لیے دو روزہ تربیتی کورس کا اہتمام کیا گیا، افتتاحی تقریب میں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے خصوصی تفصیلی لیکچر دیتے ہوئے آئینِ پاکستان، بنیادی انسانی حقوق، عدالتی احکامات پر عملدرآمد اور سرکاری اختیارات کے آئینی دائرہ کار پر تفصیلی اظہار خیال کیا ،جسٹس جواد حسن نے کہا کہ پنجاب جوڈیشل اکیڈمی اور سول سروسز اکیڈمی کے مابین تعاون ایک تاریخی لمحہ ہے، کیونکہ سول سرونٹس اپنی عملی زندگی میں بارہا عدالتی نظام اور اٹارنی جنرل آفس سے وابستہ رہیں گے۔ آئینِ پاکستان کا آغاز بسم اللہ سے ہوتا ہے اور اس کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے، جبکہ اسلام پاکستان کا سرکاری مذہب ہے، آئین میں اللہ تعالیٰ کا ذکر متعدد مقامات پر موجود ہے، جو اس کی نظریاتی بنیاد کو واضح کرتا ہے۔جسٹس جواد حسن نے آئین کے اس حصے کو سب سے اہم قرار دیا جو بنیادی انسانی حقوق سے متعلق ہے انہوں نے کہا کہ سول سرونٹس کا روزمرہ واسطہ انہی حقوق سے پڑتا ہے اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان حقوق کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے خطبۂ حجۃ الوداع کو انسانی حقوق کا پہلا اور جامع چارٹر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسی کی روح آئینِ پاکستان میں بھی جھلکتی ہے۔لیکچر کے دوران جسٹس جواد حسن نے آرٹیکل 4 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق سلوک ہر شہری کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے، جبکہ آرٹیکل 5 قانون کی اطاعت کو ہر شہری اور ریاستی اہلکار پر لازم قرار دیتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سرکاری افسران عوام سے معاملہ کرتے وقت منصفانہ ٹرائل اور ڈیو پراسس کو ہر حال میں مدنظر رکھیں۔ تقریب سے ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی اور ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے بھی اظہار خیال کیا۔