عابد چودھری: گرین ٹاؤن کے علاقے میں کمسن بچی کے قتل کا افسوسناک واقعہ ، ملزمہ نازیہ نے دورانِ تفتیش مبینہ طور پر جرم کا اعتراف کر لیا ہے
پولیس کے مطابق ملزمہ نازیہ نے دورانِ تفتیش مبینہ طور پر جرم کا اعتراف کر لیا ہے اور اس کے خلاف مقتولہ فاطمہ کی والدہ کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ابتدائی تفتیش میں پتہ چلا کہ ملزمہ نے بچی کے سر پر راڈ سے وار کیا، جس کے باعث اسے دماغی طور پر شدید چوٹیں آئیں جو جان لیوا ثابت ہوئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے بیان دیا کہ واقعے کے دوران اس نے "کالے جادو اور جنات کی حاضری" سے متعلق دعوے کیے، تاہم حکام کے مطابق ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق جاری ہے۔
مزید انکشاف ہوا ہے کہ مقتولہ فاطمہ کی بڑی بہن 8 سالہ کشف کے ساتھ بھی مبینہ طور پر تشدد کیا جاتا رہا۔ واقعے کے بعد دونوں بچوں سمیت ایک اور بچے کو حفاظتی طور پر ایدھی سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق ملزمہ نازیہ نے دو سال قبل سابق شوہر سے طلاق کے بعد اشفاق نامی شخص سے شادی کی تھی، جبکہ اس کے سابقہ رشتے سے سات بچے ہیں جو اپنے والد کے پاس رہ رہے ہیں۔