ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسرائیل کے احتساب کا معاملہ عالمی نظام کی ساکھ کا امتحان ہے؛ اسحاق ڈار

اسرائیل کے احتساب کا معاملہ عالمی نظام کی ساکھ کا امتحان ہے؛ اسحاق ڈار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : وزیرخارجہ اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اسرائیل کی طرف سے برادر ملک قطر پر غیر قانونی اور بلا جواز حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ پاکستان قطر کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کےمطابق ہنگامی عرب-اسلامی سربراہی اجلاس کے وزارتی تیاری اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم نے خطاب کیا, کہاکہ ہم ایک مرتبہ پھر ایک برادر، خودمختار ریاست پر اسرائیلی غیر قانونی حملے پر غور کے لیے جمع ہوئے ہیں, گذشتہ ماہ ہم جدہ میں فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی جارحیت پر تبادلہ خیال کے لیے بھی ملے تھے۔ انہوں نے کہاک کہ ان اجلاسوں کی کثرت خود ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیل عالمی امن و سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بن چکا ہے۔ 

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اسرائیل کی طرف سے برادر ملک قطر پر غیر قانونی اور بلا جواز حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ یہ حملہ اقوامِ متحدہ چارٹر کے آرٹیکل 2(4) سمیت بین الاقوامی قوانین اور خودمختاری و علاقائی سالمیت کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا امریکہ اور مصر کے ساتھ ملکر جنگ بندی کی کوششوں میں مصروف خودمختار ملک پر حملہ بلاجواز و قابلِ مذمت ہے، یہ اسرائیل کے اس رویے کو عیاں کرتا ہے جو عالمی قوانین و ضوابط کو خاطر میں نہیں لاتا۔ 

 نائب وزیر اعظم نے کہاکہ فلسطینی عوام پر تقریباً دو برس سے اسرائیلی مظالم اس کے خطرناک عزائم کا ثبوت ہیں, اسرائیلی غیر قانونی دراندازیوں کا سلسلہ رکنا ضروری ہے, عرب و اسلامی دنیا کو متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قطر کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، پاکستان قطر کے حقِ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ان کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔ 

 اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان قطر کی ثالثی اور جنگ بندی کی کوششوں کو سراہتا ہے، قطر پر حملہ دراصل سفارتکاری اور ثالثی پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، الجزائر اور صومالیہ کے ساتھ بطور رکنِ سلامتی کونسل اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل میں لایا ہے, اقوامِ متحدہ انسانی حقوق کونسل میں بھی ہنگامی بحث کی درخواست کی گئی ہے, تاکہ اسرائیل کو جوابدہ بنایا جا سکے ۔ 

انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان بطور غیر مستقل رکن سلامتی کونسل، او آئی سی و عرب ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیل کے احتساب اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، انصاف اور امن کے لیے عالمی حمایت جاری رکھے گا۔ اسحاق ڈار نے کہاکہ سلامتی کونسل کو اسرائیل پر ذمہ داری عائد کرنی چاہیے, سلامتی کونسل کو غزہ میں بین الاقوامی محافظ فورس کی تعیناتی سمیت عملی اقدامات کرنے چاہئیں، اسرائیل کے احتساب کا معاملہ عالمی نظام کی ساکھ کا امتحان ہے۔ 

وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان درج ذیل اقدامات پر زور دیتا ہے۔ 

اسرائیل کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر جوابدہ بنایا جائے۔ 

عرب-اسلامی ٹاسک فورس تشکیل دی جائے، یہ فورس اسرائیلی عزائم کی نگرانی کرے اور مربوط اقدامات کرے ۔ 

او آئی سی کی اپیل کے مطابق اسرائیل کی اقوامِ متحدہ کی رکنیت معطل کرنے کی کوشش کی جائے۔ 

اسرائیل کے خلاف مزید تعزیری اقدامات پر غور کیا جائے،  تاکہ اسرائیلی غیر قانونی اقدامات کی روک تھام ہو سکے۔ 

سلامتی کونسل باب ہفتم کے تحت اسرائیل سے فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرے، سلامتی کونسل باب ہفتم کے تحت اسرائیل سے قیدیوں کے تبادلے کا مطالبہ کرے، تمام متاثرہ شہریوں تک بلا روک ٹوک اور محفوظ انسانی امداد کی رسائی یقینی بنائی جائے۔ 

 تمام متاثرہ شہریوں تک امدادی عملے و طبی ٹیموں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ 

دو ریاستی حل کے لیے ایک حقیقی اور وقت بند سیاسی عمل کا آغاز کیا جائے۔ 

اسحاق ڈار نے کہاکہ پاکستان عالمی امن کے قیام کے لیے پُرعزم ہے ، پاکستان بطور منتخب رکن سلامتی کونسل, او آئی سی اور عرب ممالک کے ساتھ مل کر عالمی حمایت کو متحرک کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا ۔