مائرہ قتل کیس میں اہم پیشرفت؛ عدالت سے بڑی خبر آگئی

مائرہ قتل کیس میں اہم پیشرفت؛ عدالت سے بڑی خبر آگئی

(جمالدین جمالی)مائرہ قتل کیس میں اہم پیشرفت، سیشن کورٹ نے مقدمہ میں ملوث تین ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی۔

تفصیلات کےمطابق مائرہ قتل کیس میں ملوث مرکزی ملزم ظاہر جاوید جدون،بھائی طاہر جاوید جدون اور شریک ملزم وسیم عظمت کو عدالت میں پیش کیا گیا،ایڈیشنل سیشن جج نعیم سلیم نے کیس پر سماعت کی،فرد جرم عائد ہونے کے بعد ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا،عدالت نے گواہان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کردی۔

مقتولہ کا والد بھی انصاف کے لئےسیشن عدالت میں پیش ہوا اور کہا اس کی بیٹی برطانوی شہری تھی، قانون کی طالبہ تھی،پہلے تشدد کیا گیا، پھر قتل کردیا گیا ملزموں کے خلاف تھانہ ڈیفنس بی پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

واضح رہے کہ  پاکستانی نژاد بیلجیئم کی شہری مائرہ ذوالفقار قتل کیس میں نامزد ملزم کا ڈی این اے کرائم سین سے ملنے والے نمونوں سے میچ کر گیاتھا،پولیس ذرائع کے مطابق اس کیس میں گرفتار ہونے والے تین ملزمان کے ڈی این اے نمونے اور کرائم سین سے جمع کیے گئے، شواہد پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی بھجوائے گئے تھے۔

پولیس ذرائع کے مطابق کرائم سین سے ملنےوالے تین مختلف نمونوں سے مرکزی ملزم ظاہر جدون کے ڈی این اے کے نمونوں سے میچ کر گئے ہیں۔

یاد رہے کہ 3مئی کو ڈیفنس   میں  پاکستانی نژاد بیلجیئم کی شہری مائرہ ذوالفقار کو قتل کردیا گیا تھا،ملزم کے وکیل زرک خا ن کے مطابق ظاہرجدون 27مئی تک ضمانت پر تھا،وہ اپنے بھائی اور کز ن کے ہمراہ شامل تفتیش ہونے تھانے آیا تھا جہاں ملزم ظاہر جدون کو حراست میں لے لیا  گیا تھا۔

مائرہ کےوالدکا کہناتھا کہ مائرہ کو اس کے دوست ورغلا کر پاکستان لائے اور پھر قتل کردیا، مائرہ نے ظاہر جدون کو شادی سے انکار کردیا تھا، مقتولہ کے والد کا کہنا تھاسجل اور اقرہ مقتولہ کی بہترین دوست تھی جو قتل بارے ضرور جانتی ہیں،ظاہر جدون بارے مائرہ کو لندن میں بھی خدشات تھے۔

مائرہ پریشان اور مشکل میں تھی جس سے خود نکلنے کے لیے پرامید تھی،ظاہر جدون کی مشکوک حرکات کی وجہ سے مائرہ نے شادی سے انکار کیا تھا ۔