سٹی42: پنجاب اور اسلام آباد میں نو مئی 2023 کے سانھہ کے مجرموں کے مقدمات کے ٹرائل مکمل ہو گئے اور کئی مقدمات میں مجرموں کو سزائیں سنائی جا چکیں جبکہ خیبرپختونخوا میں اب صوبائی حکومت "تحقیقاتی کمیشن" بنانے کا اعلان کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اس کے ساتھ یہ بھی اعلان کیا کہ ان کی حکومت ’ایکشن اِن ایڈ آف سول پاورز‘ کو ختم کرے گی۔
وزیر اعلی سہیل آفریدی نے 9 مئی کو ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت پر حملے، آگ لگانے اور تمام املاک تباہ و برباد کرنے کے سنگین جرائم کی تحقیقات کیلئے ڈھائی سال بعد تحقیقاتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس سارے عرصہ کے دوران اس سانحہ کے ضمن میں کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔
وزیراعلیٰ سہلی آٖریدی نے اب حکم جاری کیا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن تمام شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج، جمع کر کے اپنی رپورٹ کابینہ کو پیش کرے۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے 9 مئی کو ریڈیو پاکستان پر حملے کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے کا اعلان اپنی نئی صوبائی کابینہ کے پہلے اجلاس میں کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کمیشن تمام شواہد، بشمول سی سی ٹی وی فوٹیج، جمع کر کے اپنی رپورٹ کابینہ کو پیش کرے۔
کابینہ کے اس پہلے اجلاس میں نئے وزیر اعلیٰ نے اپنی حکومت کی پالیسی گائیڈ لائنز وضع کیں۔
سہیل آفریدی نے اپنی کابینہ کے پہلے ہی اجلاس میں یہ سنگین نوعیت کا فساد کھرٓ کر دیا کہ ان کی حکومت ’ایکشن اِن ایڈ آف سول پاورز‘ کو ختم کرے گی۔ سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشنز کے خاتمے کے لئے یہ دلیل پیش کی کہ وہ صوبائی اسمبلی کی تمام قراردادوں پر مکمل عمل کریں گے اور سب سے اہم قرارداد ’ایکشن اِن ایڈ آف سول پاورز‘ کے خاتمے سے متعلق ہے۔ سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ دہشتگردی کے خلاف آپریشن بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ سود سے پاک خیبر پختونخوا موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، ہم خیبر پختونخوا کو سود سے پاک کریں گے اور اسلامی سرمایہ کاری متعارف کرائیں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کی متفقہ قرارداد ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ساتھ جیل میں ناروا سلوک ہو رہا ہے، 4.5 کروڑ عوام کے منتخب وزیر اعلیٰ کو اپنے بانی چیئرمین سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، میں عمران خان سے ملاقات کر کے پالیسی گائیڈ لائنز لینا چاہتا ہوں، بانی چیئرمین اور ان کی اہلیہ کو اپنے ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔
انہوں ںے کہا کہ حکومت کے تمام تر اقدامات اور اصلاحات منتخب نمائندوں کی مشاورت سے کی جائیں گی، کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ہو گی۔ حکومتی فنڈز پر کسی کو بھی ذاتی تشہیر کی اجازت نہیں ہوگی۔ کابینہ فیصلے میرٹ اور مکمل شفافیت کو مدنظر رکھ کر کرے، تمام قوانین عوامی مفاد میں ہونے چاہئیں، کوئی بھی قانون عوامی مفاد کے منافی ہو تو اسے ختم کیا جائے، تمام قوانین کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے، خامیوں کی نشاندہی کر کے ضروری ترامیم تجویز کی جائیں۔