سٹی 42 : پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پٹرول سے متعلق موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دیا جارہا ہے، وفاق اور صوبوں سے مل کر عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کریں گے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ این ایف سی کی ٹیکنیکل کمیٹی کی گفتگو ہوئی، آئینی ترمیم سے متعلق پیپلزپارٹی سے کوئی بات نہیں کی، 27 ویں ترمیم سے متعلق میں نے خود بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی معاشی بحران کا سامنا ہے، پاکستان کے عوام مہنگائی کے بم گر رہے ہیں، پاکستان کے عوام مشکل میں ہیں، سیاسی جماعتوں کو عوام کا دکھ محسوس ہوتا ہے، وزیر اعظم نے صوبوں سے درخواست کی کہ مہنگائی کے خاتمے میں وفاق کی مدد کریں، مشکل وقت میں وزیراعظم پاکستان کی عوام کو ریلیف کے اقدامات کو ویلکم کیا۔ معاشی مشکلات میں اضافہ نظر آرہا ہے کمی نہیں، آنے والے بجٹ میں مشکلات ہوں گی، حکومت کو معاشی مشکلات کو دیکھ کر ریلیف کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پٹرول سے متعلق موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دیا جارہا ہے، وفاق اور صوبوں سے مل کر عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کریں گے، بھارت کے ساتھ جنگ امریکہ ایران جنگ میں قومی ایشوز ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں ہم سب پاکستانی ایک ہو جاتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ جنگ کے دوران میں فوج اور وزرات خارجہ میں نہیں تھا، میں نے بین الاقوامی میڈیا پر بھارت کے بیانیہ کو شکست دی، پاک بھارت جنگ کے بعد وزیراعظم نے امن کمیٹی کی سربراہی کی مجھے دی، امریکہ ایران جنگ اور مذاکرات سے متعلق مجھے کوئی پیشکش نہیں کی، وہ وقت دور نہیں جب مذاکرات کامیاب ہوں۔ ایران میں امن قائم کرنے کے وزیراعظم اور فلیڈ مارشل کوشش کر رہے ہیں، ہم خواہاں ہیں کی ایران میں امن ہو ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک 28 ویں ترمیم سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی،کل کا علم نہیں، 28 ویں ترمیم پر ردعمل تب دوں گا جب کوئی بات سامنے آئے، پاکستان پیپلزپارٹی کی سپورٹ کے بغیر آئینی ترمیم بجٹ پاس نہیں کرسکتے ناممکن ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین نے حکومت سے بجٹ مذاکرات پر پیپلزپارٹی کی چار رکنی ٹیم بنا دی۔ راجہ پرویز اشرف،سلیم مانڈی والا، شیری رحمان اور نوید قمر بجٹ سے متعلق حکومت سے بات چیت کریں گے۔