ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بینک کا قرضہ واپس نہ کرنیوالے ہوشیار، نیا قانون متعارف

بینک کا قرضہ واپس نہ کرنیوالے ہوشیار، نیا قانون متعارف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:ملک میں بینکاری قوانین کو مزید سخت بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں قرض نادہندگان کے خلاف کارروائی کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے " فنانشل انسٹیٹیوشن ترمیمی بل 2026" کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت بینکوں کو ڈیفالٹرز کے خلاف مؤثر اور سخت اقدامات اٹھانے کے اختیارات حاصل ہوں گے۔

نئے قانون کے مطابق اگر کوئی قرض لینے والا مقررہ مدت میں ادائیگی کرنے میں ناکام رہتا ہے تو بینک اس کی جائیداد پر قبضہ کرنے کا مجاز ہوگا، تاہم اس سے قبل متعلقہ فرد کو 90 دن کے اندر تین مرتبہ نوٹسز جاری کرنا لازمی ہوگا۔ حکام کے مطابق قبضے کے عمل کے لیے بینک کو حکومت کو باضابطہ درخواست دینا ہوگی۔

بلال اظہر کیانی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کا مقصد مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانا اور قرضوں کی بروقت واپسی کو یقینی بنانا ہے۔ بل میں یہ شق بھی شامل کی گئی ہے کہ ہاؤس فنانسنگ کے تحت حاصل کی گئی جائیداد کو کسی تیسرے فریق کو کرائے پر دینے کی اجازت نہیں ہوگی، جس سے اس شعبے میں مزید سختی متوقع ہے۔

مزید برآں، قانون کے تحت قرض نادہندگان کے نام اور پتے کو عوامی سطح پر شائع کرنے کی بھی اجازت دی گئی ہے تاکہ ایسے افراد کی نشاندہی ہو سکے اور مالیاتی نظام میں شفافیت لائی جا سکے۔