سٹی42: ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی نے بدھ کو کہا ہےکہ وہ پینے کے پانی میں کچھ نام نہاد ہمیشہ کے لیے موجود رہنے والے کیمیکلز کی حدود کو کمزور کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جنہیں پچھلے سال صدر جو بائیڈن کی حکومت کے دوران حتمی شکل دی گئی تھی۔
بائیڈن انتظامیہ نے پی ایف اے ایس، یا پرفلووروالکل اور پولی فلووروالکل مادوں کے لیے امیکہ میں پہلی مرتبہ وفاقی سطح پر "پینے کے پانی" میں بعض کیمیکل اجزا کی حدیں مقرر کیں، اس وقت امریکی انتظامیہ کا نکتہ نظر یہ تھا کہ ان کیمیکلز سے امراض قلب، بعض کینسر اور کم وزن والے بچوں کی پیدائش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ان حدود سے لاکھوں لوگوں کے لیے پینے کے پانی میں پی ایف اے ایس کی سطح کم ہونے کی امید تھی۔
پی ایف اے ایس انسان کے بنائے ہوئے کیمیکل (سنتھیٹِک کیمیکل) ہیں جو ایک مرتبہ بن جانے کے بعد ماحول میں آسانی سے نہیں ٹوٹتے ہیں۔ وہ مصنوعات کی وسیع رینج میں استعمال کئے جا رہے ہیں، کوک ویئر، فائر فائٹنگ فوم اور داغ لگنے میں مزاحم لباس اور بہت سی دوسری پروڈکتس مین ان کا استعمال ہو رہا ہے۔ بعد مین طبی ریسرچ نے ان کیمیکلز پر انسانوں کے لئے ضرر رساں قرار دیا۔ لیکن ہم انسانوں کی یہ بدقسمتی ہے کہ اب بہت سے تجارتی مفادات ان کیمیکلز کے استعمال سے جڑ چکے ہیں۔ یہ تجارتی مفادات حکومتوں کی منت سماجت کر کے ان کیمیکلز کے استعمال میں رکاوٹوں کو ہٹوانے کی کوشش کرتے ہیں اور انہین بے ضرر یا کم ضرر رساں ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔