باغوں کا شہر ایک بار پھر کچرے کے ڈھیر میں تبدیل

باغوں کا شہر ایک بار پھر کچرے کے ڈھیر میں تبدیل

سٹی42: شہر میں کچرے کے ڈھیر صاف نہ کئے جا سکے، مانوالا اسٹاپ بیدیاں روڈ پر کچرے کے انبار لگ گئے، گندگی کے ڈھیر نے رہائشیوں کو ذہنی اذیت سے دوچار کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق علاقے میں گندگی اور غلاظت کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ بھرے ہوئے کچرا دانوں کی وجہ سے تعفن بھی پھیل رہا ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ کچرے کی وجہ سے وبائی بیماریاں پھیلنے کا بھی خدشہ ہے، بچے گندگی کی وجہ سے بیمار ہوگئے ہیں۔  ایل ڈبلیو ایم سی اور ضلعی انتظامیہ سے کوڑا اٹھانے کے حوالے سے کئی بار رابطہ کیا مگر شنوائی نہ ہوسکی۔

ادھر شہر کی دیگر مقامات کی طرح مانوالا اسٹاپ بیدیاں روڈ پر بھی کچرے کے انبار لگے ہیں جبکہ کچرے کی وجہ سے سیوریج سسٹم بھی چوک ہوگیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے علاقے میں جگہ جگہ پڑے کچرے کے ڈھیر اور سیوریج کی وجہ سے جینا مشکل ہو گیا ہے۔

اہل علاقہ کا مزید کہنا تھا بدبو اور تعفن کی وجہ سے جینا دوبھر ہو گیا ہے جبکہ گلیوں میں سیوریج کا پانی جمع ہونے کی وجہ سے گزرنا محال ہے۔ انتظامیہ علاقے میں صفائی کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے نوٹس لے۔ 

دوسری جانب سی ای او ایل ڈبلیو ایم عمران علی سلطان نے ارفع کریم ٹاور کے قریب ویسٹ کولیکشن پوائنٹ کو کلیئرکرنے کے بعد میڈیا بریفنگ دی۔ سی ای او ایل ڈبلیو ایم سی کا کہنا تھا کہ ویسٹ کولیکشن پوائنٹ سے چار ہزار ٹن سے زائد کوڑے کو 6 دن کی لگاتار محنت سے کلیئر کردیا گیا ہے۔ شہر کے دیگر علاقوں کی صفائی کے انتظامات کو یقینی بنانے کیلئے تھوڑا وقت دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ شہر سے روزانہ چھ ہزار ٹن کوڑا اکٹھا کیا جارہا ہے اور اب تک 70فیصد کوڑا کرکٹ اٹھایاجاچکا ہے۔ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو ناکارہ گاڑیوں اور مشینری کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے،شہر کی صفائی کیلئے اب چار ارب روپے کا بجٹ مل چکا ہے تین ماہ کے دورانیئے میں 915 نئی مشینیں و گاڑیاں جلد خریدیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ لاہور کو صاف کرنے کیلئے 8ہزار سینیٹری ورکرز موجود ہیں تاہم مشینری بہت بوسیدہ ہوچکی ہے،10ہزار کنٹینر کی ضرورت ہے تاہم ابھی لاہور میں صرف تین ہزار کنٹینر موجود ہیں۔