ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کلائمیٹ سپورٹ لیوی پر حکومت اور پیپلزپارٹی میں مذاکرات، فنڈز کے استعمال پر سوالات

کلائمیٹ سپورٹ لیوی پر حکومت اور پیپلزپارٹی میں مذاکرات، فنڈز کے استعمال پر سوالات
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

روزینہ علی: حکومت اور پاکستان پیپلزپارٹی کے درمیان کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے معاملے پر اہم مذاکرات ہوئے، جس میں لیوی سے حاصل ہونے والے ریونیو اور اس کے استعمال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں حکومتی وفد نے پیپلزپارٹی رہنماؤں شیری رحمٰن اور سلیم مانڈوی والا سے ملاقات کی، جس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے متعلق امور زیر بحث آئے۔

پیپلزپارٹی نے مطالبہ کیا کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو پٹرولیم لیوی سے الگ رکھا جائے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم صرف ماحولیاتی منصوبوں پر خرچ کی جائے۔ پارٹی رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ عوام سے وصول کی جانے والی اس رقم کے استعمال کا طریقہ کار واضح ہونا چاہیے۔

مذاکرات کے دوران پیپلزپارٹی نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بجٹ میں کمی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور سیلابی خطرات میں اضافے کے پیش نظر ماحولیاتی منصوبوں کیلئے وسائل بڑھانے کی ضرورت ہے۔

پیپلزپارٹی رہنماؤں نے حکومت سے استفسار کیا کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کس مقصد کیلئے مختص کی جا رہی ہے اور اس کے استعمال کی مکمل تفصیلات سامنے لائی جائیں۔

سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے کلائمیٹ لیوی کی بجائے باقاعدہ کلائمیٹ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے، تاہم حکومت نے اس تجویز پر غور کیلئے مزید مہلت طلب کی ہے۔

مذاکرات میں دونوں جانب سے مشاورت جاری رکھنے اور ماحولیاتی فنڈنگ کے مؤثر استعمال کے حوالے سے اتفاق رائے پیدا کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔