افشاں رضوان:شدید گرمی، تپتی دھوپ اور لو کے تھپیڑوں کے درمیان لاہوریوں نے گرمی کا توڑ روایتی چاٹی کی لسی میں ڈھونڈ لیا۔ شہر بھر میں فٹ پاتھوں اور سڑکوں کے کنارے قائم لسی کے سٹالز پر شہریوں کا رش بڑھ گیا ہے، جہاں مٹی کے مٹکوں میں ٹھنڈی اور تازہ لسی فروخت کی جا رہی ہے۔
دکانداروں کے مطابق چاٹی کی لسی خالص دہی، پانی اور برف سے تیار کی جاتی ہے، جس میں کسی قسم کے مصنوعی اجزاء شامل نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا ہے کہ مٹی کے مٹکوں میں رکھنے کی وجہ سے لسی قدرتی طور پر ٹھنڈی رہتی ہے اور اس کا ذائقہ بھی مزید بہتر ہو جاتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ مصنوعی مشروبات اور کولڈ ڈرنکس کے مقابلے میں چاٹی کی لسی صحت کیلئے زیادہ مفید ہے۔ یہ نہ صرف جسم کو ٹھنڈک فراہم کرتی ہے بلکہ گرمی کے باعث ہونے والی پانی اور نمکیات کی کمی کو پورا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں چاٹی کی لسی انہیں فوری تازگی اور سکون فراہم کرتی ہے۔ ان کے مطابق لسی پینے سے گلا خراب نہیں ہوتا اور یہ لو اور ہیٹ سٹروک کے اثرات سے بچاؤ کا ایک قدرتی ذریعہ ہے۔
گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ لاہور میں چاٹی کی لسی کی مقبولیت بھی بڑھتی جا رہی ہے، اور یہ روایتی مشروب شہریوں کی پہلی پسند بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مناسب مقدار میں لسی کا استعمال موسم گرما میں جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے اور توانائی بحال کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔