ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ریاست پاکستان کو توڑنے کی سوچ رکھنے والوں سے کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی،سرفراز بگٹی

ریاست پاکستان کو توڑنے کی سوچ رکھنے والوں سے کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی،سرفراز بگٹی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

عیسیٰ ترین: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بلوچستان لازم و ملزوم ہیں اور ریاست مخالف عناصر سے آئین پاکستان کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر قسم کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم ریاست پاکستان کو توڑنے کی سوچ رکھنے والوں سے کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔

20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ تشدد، سوشل میڈیا اور دہشت گردوں کی "لیجیٹیمیٹ وائسز" ریاست کے خلاف نفرت کو فروغ دے رہی ہیں اور انہی حربوں کے ذریعے ریاست پاکستان کو کمزور اور تقسیم کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ غیر متوازن ترقی تشدد کی بنیادی وجہ نہیں، کیونکہ آج تربت سمیت بلوچستان کے کئی علاقے پہلے سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں، تاہم اس کے باوجود نام نہاد تحریکیں ختم نہیں ہوئیں۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست مخالف عناصر پسماندگی کے خاتمے یا ترقی کے لیے نہیں بلکہ بندوق کے زور پر اپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان کو کیک کی طرح ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاست ہر چیز سے مقدم ہے، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور ریاست پاکستان کے لیے اپنی جان بھی نچھاور کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ گورننس سے متعلق شکایات اور تحفظات ہو سکتے ہیں، لیکن ریاست کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔میر سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ میرٹ پر مبنی نظام ہی نوجوانوں کا اعتماد بحال کرنے کا واحد مؤثر ذریعہ ہے، جبکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے مکمل میرٹ پر بھرتیوں کو یقینی بنایا جائے گا۔