ارشد قریشی: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے اور اس کے خلاف پوری قوم متحد ہے پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے شہداء قوم کے ہیرو ہیں، جن کی قربانیوں کا کوئی نعم البدل نہیں اور ان کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔
اڈیالہ روڈ کے داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو شہداء کے معاملے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے اور خطابات میں الفاظ کے چناؤ میں احتیاط برتنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمان کی تقریر مکمل طور پر نہیں سن سکے، تاہم شہداء سے متعلق ان کے بیان سے اتفاق نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل اے اور بھارت ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور بھارت پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے، تاہم پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور ملک کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف تمام مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں، جبکہ ان کی بہنیں نظام سے مایوس ہو کر اپنے بھائی کے حق میں میدان میں آئی ہیں، جو ان کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست کے احتجاج سے متعلق حتمی فیصلہ پارٹی کی پارلیمانی اور سیاسی کمیٹیاں کریں گی۔
آزاد کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پارٹی کا انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ برقرار ہے، تاہم اگر حالات بہتر ہوئے تو اس پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ریاست مخالف بیانیے کی حامی نہیں اور ایکشن کمیٹی کے مطالبات کی حمایت کے باوجود خون خرابہ نہیں چاہتی۔
افغانستان سے متعلق بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کا ساتھ دیا، لیکن اگر پاکستان کے دشمنوں کو وہاں پناہ ملتی ہے تو اس پر تحفظات کا اظہار کرنا پاکستان کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ افغانستان کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔