ثمرہ فاطمہ: لاہور کے جلو پارک میں رکھے گئے بندروں کی خراب حالت سامنے آ گئی ہے، جہاں متعدد بندروں کے جسموں پر گہرے زخم موجود ہیں اور بعض زخموں سے خون رسنے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق کچھ زخمی بندروں کے زخموں میں کیڑے پڑنے کا بھی انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد انتظامی اقدامات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ بندر چند ماہ قبل سیالکوٹ کے ایک سرکس سے ریسکیو کیے جانے کے بعد جلو پارک منتقل کیے گئے تھے۔ ریسکیو کے بعد انہیں کچھ عرصہ چھوٹے پنجروں میں رکھا گیا، جبکہ مناسب سہولیات اور دیکھ بھال نہ ملنے کے باعث ان کی صحت متاثر ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ بندروں کو اب دیگر بندروں کے ساتھ ایک ہی پنجرے میں منتقل کر دیا گیا ہے، جس سے صحت مند بندروں میں بھی بیماری پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
پارک انتظامیہ کے مطابق ان کے پاس صرف آٹھ بندروں کو رکھنے کی گنجائش ہے، تاہم اس وقت ایک ہی پنجرے میں 17 بندر موجود ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کم جگہ اور زیادہ تعداد کی وجہ سے بندروں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔