لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، مرضی کے بغیر ملازم کو دوسری کمپنی میں نہیں بھجوایا جا سکتا

لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، مرضی کے بغیر ملازم کو دوسری کمپنی میں نہیں بھجوایا جا سکتا
لاہور ہائیکورٹ

ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ کا لیسکو سمیت بجلی کی دیگر تقسیم کار کمپنیوں کے افسروں کے حوالے سے بڑا فیصلہ، جسٹس شجاعت علی خان نے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ پیپکو کے پاس بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ملازمین کے قواعدو ضوابط طے کرنے کا اختیار نہیں، کسی کمپنی کے ملازم کو اس کی رضامندی کے بغیر کسی دوسری کمپنی میں نہیں بھجوایا جاسکتا۔ 

تفصیلات کے مطابق جسٹس شجاعت علی خان نے نثاراحمد کی درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا، فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ڈسٹری بیویشن کمپنی کا بورڈ آف ڈائریکٹرز ملازمین کے رولز اور ترقی کرنے کا مجاز ہے۔ واپڈا کی جانب سے متعین کی گئی سنیارٹی کا اطلاق کسی بھی ڈسٹری بیوشن کمپنی جانیوالے ملازمین پر برقرار رہے گا۔

فیصلہ میں مزید کہا گیا ہے اس فیصلے کا اطلاق پیپکو کے پہلے سے دیئے گئے احکامات اور ملازمین کی ترقیوں پر نہیں ہوگا۔ درخواستگزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ دوہزار چھ میں واپڈا نے اس کی سینیئر انجنیئر کی حیثیت سے سنیارٹی متعین کی۔ پیپکو نے دوہزار گیارہ میں سنیارٹی میں رد وبدل کردیا۔درخواستگزارنے استدعا کی کہ عدالت پیپکو کے سنیارٹی میں ردو بدل کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے۔