جعلی اکاؤنٹس سکینڈل میں بڑی پیشرفت

جعلی اکاؤنٹس سکینڈل میں بڑی پیشرفت

(مانیٹرنگ ڈیسک) جعلی اکاؤنٹس سکینڈل میں بڑی پیشرفت، نیب نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیخلاف ریفرنس دائر کردیا، سلیم مانڈوی والا کڈنی ہلز پلاٹس الاٹمنٹ کیس میں ملزم نامزد، الزام لگایا گیا ہے کہ سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون کو 14 کروڑ جعلی اکاؤنٹس سے ملے۔

الزام پر سلیم مانڈوی والا بھی فرنٹ فٹ پر آگئے، نیب کیخلاف عدالت میں ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا اعلان کردیا، کہتے ہیں خواہش تھی نیب ریفرنس دائر کرے، ریفرنس کیخلاف عدالت میں اپنا موقف پیش کروں گا، نیب نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو کڈنی ہلز پلاٹس الاٹمنٹ کیس میں باقاعدہ ملزم نامزد کردیا، ریفرنس میں ندیم مانڈوی والا، اعجاز ہارون، عبدالغنی مجید اورمبینہ بینامی طارق محمود کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

نیب ریفرنس میں الزام عائد کیا گیاکہ اعجاز ہارون کو الاٹمنٹس کے بدلے بھاری رقوم جعلی اکاؤنٹس سے ملیں، جس نے کڈنی ہلزفلک نْما میں پلاٹس کی بیک ڈیٹ فائلیں تیار کیں، سلیم مانڈوی والا نے پلاٹس عبدالغنی مجید کو فروخت کرنے میں اعجاز ہارون کی معاونت کی، پھر حصے میں ملی رقم سے سلیم مانڈوی والا نے پہلے ایک بے نامی کے نام پر پلاٹ خریدا اور بعد میں وہ پلاٹ بیچ کر دوسرے فرنٹ مین کے نام پر بے نامی شیئرز خریدے۔

ریفرنس میں الزام لگایا گیاکہ کڈنی ہلز پلاٹس کی فروخت کے بدلے میں رقم آئی ہی جعلی اکاؤنٹس سے تھی، نیب نے الزام لگایا کہ سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون کو14 کروڑ روپے جعلی اکاؤنٹس سے وصول ہوئے، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا اور ندیم مانڈوی والا نے اسی رقم سے بے نامی طارق محمود کے نام پر منگلا ویو کمپنی کے شیئرز خریدے۔