ویب ڈیسک: ماہرین فلکیات نے بتایا ہے کہ رواں برس کا پہلا سورج گرہن 17 فروری کو ہوگا .
بین الاقوامی خلائی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ ایک حلقوی (اینولر) سورج گرہن ہوگا جو زیادہ تر انٹارکٹکا کے دور دراز علاقوں میں دیکھا جا سکے گا۔ اس دوران چاند اپنے بیضوی مدار میں گردش کرتے ہوئے سورج کے عین سامنے آ جائے گا، تاہم وہ سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ نہیں پائے گا۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ چاند سورج کو مکمل طور پر نہیں چھپاتا، اس لیے سورج کا بیرونی حصہ روشن اور سرخی مائل حلقے کی صورت میں دکھائی دے گا۔ اس مرحلے کو عام طور پر ’رِنگ آف فائر‘ کہا جاتا ہے، جب سورج ایک جلتے ہوئے سنہری دائرے کی طرح نظر آتا ہے اور چاند اس کے وسط میں سیاہ سائے کی صورت موجود ہوتا ہے۔
گرہن کے دوران کچھ دیر کے لیے آسمان کی روشنی مدھم ہو جائے گی اور سورج کا بیرونی کنارہ سنہری حلقے جیسا دکھائی دے گا۔ یہ مرحلہ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے، جس کے بعد چاند بتدریج سورج کے سامنے سے ہٹنا شروع ہو جائے گا اور آخرکار مکمل طور پر اپنی اصل پوزیشن میں آ جائے گا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کو براہ راست آنکھ سے دیکھنا بینائی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے اگر کوئی اس منظر کا مشاہدہ کرنا چاہے تو خصوصی سولر فلٹر یا منظور شدہ حفاظتی چشموں کا استعمال ضروری ہے۔
ادھر اس سورج گرہن کے تقریباً دو ہفتے بعد، تین مارچ کو سال کا پہلا ’بلڈ مون‘ بھی دکھائی دے گا۔ اس موقع پر چاند سرخی مائل نظر آئے گا۔ یہ منظر شمالی امریکہ، مشرقی ایشیا اور آسٹریلیا کے مختلف علاقوں میں دیکھا جا سکے گا۔