عرفان ملک: پنجاب پولیس نے تھانوں میں کیمروں کی تنصیب اور عوامی ڈیلنگ کو ریکارڈ پر لانے کا عمل باقاعدہ طور پر شروع کر دیا ہے۔
اس اقدام کو پولیس اصلاحات پراجیکٹ کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے جس کا مقصد شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانا ہے۔
لاہور کے 84 تھانوں میں نصب کیمروں کی تعداد 3 سے بڑھا کر 6 کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت مزید تین کیمرے برآمدے، انویسٹی گیشن روم اور داخلی دروازے پر نصب کیے جائیں گے، جبکہ ایس ایچ او روم، فرنٹ ڈیسک اور حوالات میں خراب کیمروں کو بھی فوری طور پر آپریشنل کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق لاہور کے تمام تھانوں میں باڈی کیمز کی فراہمی بھی شروع کر دی گئی ہے اور ہر تھانے کو اہلکاروں کے لیے 20 باڈی کیم فراہم کیے جائیں گے۔ ان کیمروں کے ذریعے پولیس اور عوام کے درمیان ہونے والے رابطے اور معاملات مکمل طور پر ریکارڈ کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ہدایت جاری کی گئی ہے کہ عوام کے ساتھ کسی بھی قسم کی ڈیلنگ کیمروں سے ہٹ کر نہ کی جائے اور احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کیمروں کی تنصیب مکمل ہوتے ہی تھانوں کے ریکارڈ اور بیک اپ سسٹم کی وقتاً فوقتاً چیکنگ بھی کی جائے گی تاکہ شفافیت کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔