ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کچھ افراد الارم بجنے سے قبل اچانک کیسے جاگ جاتے ہیں

 کچھ افراد الارم بجنے سے قبل اچانک کیسے جاگ جاتے ہیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : فون الارم بجنے سے قبل  خود بخود آنکھیں کیسے کھل جاتی ہیں ۔ انسان حیران  مگر یہ عمل اتفاق نہیں ہے ۔

کیا آپ کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ صبح اٹھنے کے لیے فون الارم میں وقت سیٹ کرتے ہیں مگر اس کے بجنے سے کچھ منٹ پہلے خودکار طور آنکھیں کھل جاتی ہیں؟اس وقت آس پاس کوئی آواز نہیں ہوتی اور پھر بھی جسم حیرت انگیز طور پر جان جاتا ہے کہ الارم بجنے والا ہے تو اٹھ جانا چاہیے۔بظاہر تو یہ عجیب اور حیران کن محسوس ہوتا ہے مگر ایسا اتفاق سے نہیں ہوتا۔

یہ ہمارے جسم کی اندرونی گھڑی کا کام ہوتا ہے جو ایک حیرت انگیز ٹائمنگ سسٹم ہے جو سونے اور جاگنے کے افعال کو ریگولیٹ کرتا ہے۔

مگر ہمارے جسم کے اندر نصب یہ الارم کلاک کیسے کام کرتی ہے؟ہارمونز پر مبنی اٹھانے والی گھڑیہمارے دماغ کے اندر suprachiasmatic nucleus نامی نیورونز کا ایک چھوٹا گروپ موجود ہوتا ہے جن کو ماسٹر کلاک بھی کہا جاتا ہے۔؎یہ نیورونز جسم کے اندرونی ردھم کے تعاون سے وقت کو ٹریک کرتے ہیں اور یہ اندرونی ردھم 24 گھنٹے کے دن سے جڑا ہوتا ہے تاکہ نیند، جسمانی درجہ حرارت، بھوک اور ہاضمے وغیرہ کو ریگولیٹ کرسکے۔

یہ قدرتی ردھم ہمیں روزانہ غنودگی اور مستعدی جیسے احساسات محسوس کراتا ہے۔

ہمارا جسم اس گھڑی کو قدرتی طور پر سیٹ کرتا ہے اور اسی وجہ سے مختلف افراد کے سونے اور جاگنے کے اوقات میں فرق ہوتا ہے، یعنی کچھ رات کو جلد سونا پسند کرتے ہیں جبکہ کچھ ایسے ہوتے ہیں جو رات گئے بستر پر جاتے ہیں۔چونکہ سونے، جاگنے، کھانے اور جسمانی سرگرمیوں کے معمولات اس اندرونی گھڑی سے منسلک ہوتے ہیں تو یہ گھڑی روزانہ کے ان رویوں کے بارے میں اندازہ لگانے لگتی ہے اور اس وقت کے مطابق متعلقہ ہارمونز کا اخراج کرتی ہے۔

مثال کے طر پر جب ہم صبح جاگتے ہیں تو جسم کے اندر کورٹیسول نامی ہارمون کا اخراج بڑھ جاتا ہے تاکہ دن کا آغاز توانائی کے ساتھ ہوسکے۔تو جن افراد کے سونے اور جاگنے کے وقت میں تسلسل ہوتا ہے تو یہ اندرونی گھڑی جان جاتی ہے کہ آپ عموماً کس وقت جاگتے ہیں اور اسی وجہ سے فون الارم بجنے سے قبل ہی یہ گھڑی جسم کو اٹھنے کے لیے تیار کرتی ہے۔یعنی جسمانی درجہ حرارت گھٹ جاتا ہے، نیند میں مدد فراہم کرنے والے ہارمون میلاٹونین کی سطح گھٹ جاتی ہے جبکہ کورٹیسول کی سطح بڑھنے لگتی ہے۔تو جس وقت الارم بجنے والا ہوتا ہے، ہمارا جسم پہلے سے ہی بیدار ہونے کے لیے تیار ہوتا ہے۔

اگر آپ اکثر الارم بجنے سے چند منٹ قبل جاگ جاتے ہیں اور خود کو مستعد محسوس کر رہے ہوتے ہیں، تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اندرونی ردھم درست کام کر رہا ہے۔البتہ اگر آپ الارم بجنے سے پہلے جاگتے ہیں اور غنودگی یا تھکان محسوس کرتے ہیں تو یہ نیند کے ناقص معیار کی نشانی ہوسکتی ہے۔

سونے جاگنے کے وقت کوئی وقت نہ ہونے سے جسم کی اندرونی گھڑی الجھن کا شکار ہو جاتی ہے جس کے باعث غنودگی یا توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات جیسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

اسی طرح نیند کا کوئی تسلسل نہ ہونے سے جسم جاگنے کے لیے الارم پر انحصار کرنے لگتا ہے اور گہری نیند سے جگاتا ہے جس کے باعث اٹھنے پر سر بھاری بھاری محسوس ہوسکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔