ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان کے یومِ آزادی کی 79ویں سالگرہ کے موقع پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا پیغام

پاکستان کے یومِ آزادی کی 79ویں سالگرہ کے موقع پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا پیغام
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: پاکستان کے یومِ آزادی کی 79ویں سالگرہ کے موقع پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا پیغام :  

صدر پاکستان  آصف علی زرداری نے کہا پاکستان کے یومِ آزادی کی 79ویں سالگرہ کے موقع پر میں اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک مقیم تمام پاکستانیوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

14 اگست وہ دن ہے جب ہم ان قربانیوں کو یاد کرتے ہیں جن کی بدولت پاکستان کا قیام ممکن ہوا۔ ہم قائداعظم محمد علی جناح، تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں اور کارکنوں، اور ان تمام لوگوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے ایک آزاد وطن کے حصول کی جدوجہد میں اپنے گھر بار اور روزگار تک چھوڑ دیے۔

لیکن آزادی صرف ایک تاریخی کامیابی نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے جسے ہر نسل کو آگے بڑھانا ہے۔ عوام کی جمہوری خواہش کے نتیجے میں وجود میں آنے والے پاکستان کو مزید مضبوط، محفوظ اور خوشحال بنانا ہوگا۔ ہماری ذمہ داری صرف یہ یاد رکھنا نہیں کہ پچھلی نسلوں نے کیا حاصل کیا بلکہ اپنی محنت سے اس میں مزید اضافہ کرنا بھی ہے۔

گزشتہ سال نے ہمیں پاکستانی قوم کی طاقت کا احساس دلایا ہے۔ معرکۂ حق نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے عزم اور صلاحیت سے بھی مالا مال ہے۔ طاقت کا اصل سبق ذمہ داری کا سبق ہے۔ جو ملک اپنا دفاع کر سکتا ہے، اسے اپنی طاقت کو تنازع سے بچنے، امن کے تحفظ اور اپنے عوام کے مفادات کے لیے بھی استعمال کرنا چاہیے۔

آج ہمیں جو امن اور استحکام حاصل ہے، اس کے لیے بڑی قیمت ادا کی گئی ہے۔ اس یومِ آزادی پر ہم اپنی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کے اہلِ خانہ کی قربانیوں کو بھی سلام پیش کرتے ہیں۔ ان کی بہادری اور عزم نے بیرونی جارحیت اور دہشت گردی کے خطرے سے ہماری قوم کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی قوم ان کی خدمات کی تہہ دل سے شکر گزار ہے۔

خطے میں مذاکرات کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کا کردار بھی اسی ذمہ داری کی ایک اہم مثال ہے۔ پاکستان نے ایسے وقت میں، جب وسیع تر تنازع کے خطے اور دنیا پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے تھے، اپنے رابطوں، جغرافیائی محلِ وقوع اور سفارتی اثر و رسوخ کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی حوصلہ افزائی کی۔

پاکستان کا مؤقف واضح ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ تنازعات چاہے کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں، بالآخر انہیں مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ہماری سلامتی ہمارے پڑوس اور پوری دنیا کے امن اور استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان کشیدگی کم کرنے، علاقائی استحکام کے تحفظ اور تعاون کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

یہ وقت ملک کے اندرونی معاملات پر توجہ دینے اور ان کاموں پر توجہ مرکوز کرنے کا بھی ہے جو پاکستان کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ ہمیں اپنی معیشت کو مضبوط بنانا ہو گا، نوجوانوں کے لیے زیادہ مواقع پیدا کرنے ہوں گے، تعلیم اور ہنر کو بہتر بنانا ہو گا اور گورننس، معیشت اور معاشرے میں اصلاحات کے ذریعے اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ ترقی اور جمہوریت کے ثمرات ملک کے ہر حصے اور ہر طبقے تک پہنچ سکیں۔

پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہیں۔ ملک بھر اور دنیا کے مختلف حصوں میں وہ سائنس، ٹیکنالوجی، کاروبار، تعلیم اور تخلیقی شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ انہیں وہ تعلیم، ہنر اور مواقع فراہم کریں جن کے ذریعے وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ آج نوجوانوں پر سرمایہ کاری دراصل پاکستان کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔

عام پاکستانیوں کے لیے قومی ترقی کو عملی بنیادوں پر پرکھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک نوجوان کو اپنا کیریئر بنانے کے لیے ہنر سیکھنے اور آگے بڑھنے کا موقع ملے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک خاندان معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل کر سکے۔ اس کا مطلب ہے کہ کسان، مزدور، تاجر اور کاروباری افراد زیادہ اعتماد کے ساتھ مستقبل کی منصوبہ بندی کر سکیں۔ پاکستان کی طاقت کا اصل اندازہ اس بات سے ہوگا کہ ہماری قومی ترقی اس کے عوام کی زندگیوں میں کتنی بہتری لاتی ہے۔

ہم بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ بھی اپنی یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں اور ان کے حقوق کے لیے جائز جدوجہد کی حمایت جاری رکھنے کا عزم کرتے ہیں۔ پاکستان جموں و کشمیر کے تنازع کے پُرامن حل کے لیے کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اپنی حمایت جاری رکھے گا۔

اس موقع پر میں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تاریخی اختلافات کے باوجود ہم نے ہمیشہ اپنے ہمسایہ افغانستان کی قومی خودمختاری کا احترام اور حمایت کی ہے اور ان سے بھی اسی طرح کے رویے کی توقع رکھتے ہیں۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ افغانستان کی موجودہ عبوری حکومت دہشت گرد گروہوں کے ایک مجموعے کو اپنی سرزمین استعمال کرنے اور پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کے خلاف حملے کرنے کی اجازت دے رہی ہے اور ان کی حمایت کر رہی ہے۔ یہ بھی افسوسناک ہے کہ افغانستان کے طالبان حکمران پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف دہشت گرد حملوں میں بھارت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ وہ ایسا پاکستان کی امن کے قیام کی کوششوں سے توجہ ہٹانے کے لیے کر رہے ہیں، جنہیں پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔

میں انہیں خبردار کرتا ہوں کہ پاکستانی عوام کے خلاف یہ شرپسندانہ کارروائیاں بند کریں اور سب کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کی مسلح افواج ان مذموم عزائم کو شکست دینے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔اس یومِ آزادی پر میں تمام پاکستانیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جس بھی شعبے میں خدمات انجام دے رہے ہیں، ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

الّلہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے، ہمارے عوام کو امن اور خوشحالی عطا کرے، ہمارے ملک کو مضبوط بنائے اور بہتر مستقبل کی طرف ہماری رہنمائی فرمائے۔

پاکستان زندہ باد۔