سٹی42: سیاست سے بدعنوانی کو ختم کرنے کو ناممکن سمجھنے والوں کے شرمندہ ہونے کا وقت آ گیا۔ سیاست اور سیاستدانوں میں سے بدعنوانی کے خاتمہ کا عظیم انقلاب خاموشی سے آ گیا۔
یورپ کے ملک البانیہ نے حکومتی کاموں مین بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے آرٹیفیشل انتیلی جنس سے چلنے والی خاتون وزیر کا تقرر کر دیا۔
یہ خاتون وزیر جن کا نام ڈئیلا ہے، تمام سرکاری ٹھیکوں میں بندعنوانی نہ ہونے دینے کے ٹاسک کے ساتھ کابینہ مین شامل ہو رہی ہیں۔ وہ آڑٹیفیشل انٹیلی جنس سے چلتی ہیں۔ ڈئیلا دراصل ایک بوٹ ہیں جنہین خاص طور سے حکومتی کاموں میں پروسیجرز کی خلاف ورزیاں روکنے، بدعنوانیاں روکنے اور ہر طرح کی بے ضابطگیاں روکنے کے لئے تخلیق کیا گیا ہے۔ اس مصنوعی ذہانے سے کام کرنے والے بوٹ کا نام ڈئیلا رکھا گیا اور اس کی شکل و صورت البانیہ کی خواتین جیسی خوبصورت بنائی گئی ہے۔
اب دنیا کی پہلی اے آئی وزیر، بدعنوانی پر لگائے گی سخت لگام کیونکہ نہ وہ کسی کی سفارش سنے گی نہ کوئی عذر، بہانہ اسے متاثر کر سکے گا۔ اس سے کوئی دستاویز چھپانا ممکن نہیں اور کسی غلط حرکت کی الٹی سیدھی تاویل کر کے اسے قائل کرنا یا گمراہ کرنا بھی ممکن نہیں۔
البانیہ کے وزیراعظم نے بدعنوانی روکنے کے لیے دنیا کی پہلی اے آئی وزیر ’ڈئیلا‘ کو سوچ سمجھ کر مقرر کیا ہے۔ یہ اے آئی باٹ سرکاری ٹھیکوں میں شفافیت یقینی بنائے گی اور رشوت خوروں کو بے نقاب کرے گی۔
اس تقرر کا سب سے زیادہ فائدہ وزیراعظم کو ہی ہو گا۔ کیونکہ ڈئیلا کی اچھی پرفارمنس انہی کی پرفارمنس شمار ہو گی، انسان سیاستدانوں کی طرح ڈئیلا کی مقبولیت سے ان کے لیڈر پرائم منسٹر کو اپنی رکسی چھن جانے کا کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔
دنیا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اب اس کا استعمال ہر شعبے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
لوگ مزدوروں کو ڈراتے تھے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ان کی جگہ لے لے گی لیکن اب اس خطرناک ذہانت کی انٹری سیاست اور حکومت میں بھی ہو گئی ہے۔
البانیہ ن دراصل ورچوئل وزیر کا تقرر کر کے آڑٹیفیشل انٹیلی جنس اور روبوٹ کو انسانوں پر حکمران بنا دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ اس خاتون وزیر (اے آئی) کے نام ’ڈئیلا‘ کا البانین زبان میں معنی ’سورج‘ ہے۔ اس بات کا روشن امکان ہے کہ انسان سیاستدانوں کے برعکش ڈئیلا کبھی کوئی ایسی غلطی نہیں کرے گی جس سے وہ عام شہریوں مین غیر مقبول ہو۔ ممکن ہے اس کی پرفارمنس سے خوش ہو کر عوام اسے کسی زیادہ کلیدی وزارت میں بھی کام کرتے دیکھنا پسند کریں۔ البانیہ کے پرائم منسٹر کو تو یقیناً اپنی ساتھ روبوٹ منسٹر سے کوئی ڈر نہیں لگے گا لیکن یہ تقرر دنیا میں ہزاروں سیاستدانوں کو یقیناً خوفزدہ کر دے گا۔ یہ وہ ہیں جو سیاست کرتے ہیں، ٹھیکے بانٹنے کے عمل میں پیسہ بنانے کے لئے۔
اے آئی جنریٹیڈ باٹ منسٹر ڈئیلا اب یہ یقینی کرنے میں مدد کرے گی کہ حکومت کے بانتے ہوئے تمام ٹھیکے 100 فیصد بدعنوانی سے پاک ہوں۔ اس سے حکومت کو پوری شفافیت کے ساتھ کام کرنے میں مدد ملے گی۔ البانیہ کی نیشنل ایجنسی فار انفارمیشن سوسائٹی کی ویب سائٹ کے مطابق ڈئیلا اپنی ذمہ داری نبھانے کے لیے اَپڈیٹڈ اے آئی ماڈلس اور ٹیکرکس کا استعمال کرتی ہیں۔
ڈئیلا کو جنوری میں اے آئی آپریٹڈ ڈیجیٹل اسسٹنٹ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اسے روایتی البانیائی کپڑے پہنے ایک خاتون جیسا دکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد شہریوں کو سرکاری ای-البانیہ پلیٹ فارم پر نیوی گیٹ کرنے میں مدد کرنا تھا۔ یہ پلیٹ فارم دستاویزوں اور خدمات تک پہنچ مہیا کراتا ہے۔

ڈئیلا نے اب تک 36600 ڈیجیٹل دستاویزوں کو جاری کرنے میں سہولت فراہم کی ہے اور پلیٹ فارم کے ذریعہ تقریباً 1000 سروسز دی ہیں۔ البانیہ میں سرکاری ٹھیکوں میں بدعنوانی کے معاملے بار-بار سامنے آ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ملک ڈرگس اور اسلحوں کی اسمگلنگ سے کمائے گئے پیسوں کو صاف کرنے والے بین الاقوامی مجرموں کا اہم مرکز بن گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بدعنوانی حکومت کے اعلیٰ عہدوں تک بھی پہنچ چکی ہے۔
مسلسل چوتھی مرتبہ وزیراعظم بننے والے ایڈی رما سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ جلد ہی پارلیمنٹ میں اپنی نئی کابینہ پیش کریں گے۔ البانیہ کے صدر باجرام بیگاج نے رما کو نئی حکومت بنانے کا کام دیا ہے۔
جب صحافیوں نے پوچھا کہ کیا اے آئی وزیر کی تقرری آئین کے خلاف ہے، تو صدر نے سیدھے طور پر اس کا جواب نہیں دیا۔
رما کی سوشلسٹ پارٹی نے 11 مئی کو ہوئے انتخابات میں 140 میں سے 83 سیٹیں جیت کر چوتھی مرتبہ حکومت بنائی ہے۔ سوشلسٹ پارٹی اکیلے حکومت بنا سکتی ہے۔ زیادہ تر قانون پاس کر سکتی ہے لیکن آئین بدلنے کے لیے اسے 93 سیٹیں درکار ہوں گی۔