ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

چیف آف ڈیفینس فورسِز فیلڈ مارشل عاصم منیر تینوں مسلح افواج کی قیادت کریں گے

Chief of Defence Forces, City42 , Syed Asim munir, Field Marshal Asim Munir, CODF
کیپشن:  file photo فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جس روز چیف آف ڈیفینس فورسز مقرر ہوں گے اس دن سے پانچ سال تک وہ اس عہدہ پر کام کریں گے۔ یہ بات وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے آج تینوں مسلح افواج کے متعلق تین ایکٹس میں ترمیم قومی اسمبلی سے منطور ہونے کے بعد صحافیوں کے استفسار پر اپنے وضاحتی بیان مین بتائی ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

   سٹی42: آرمی ایکٹ، نیوی ایکٹ اور ائیرفورس ایکٹ میں ترمیم کے بعد پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے سربراہ  چیف آف ڈیفینس فورسز ہوں گے۔ پاکستان کا پہلا  چیف  آف ڈیفینس فورسز  فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بنایا جا رہا ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر  اپنے تقرر کے دن سے آئندہ پانچ سال تک چیف آف ڈیفینس فورسز کی پوسٹ پر ریاست اور قوم کی خدمت کریں گے۔
 قومی اسمبلی نے آج تینوں فورسز کے ایکٹس میں ترامیم  کے بعد آرمی ایکٹ2025 کی منطوری دی ہے۔ 
 

وزیرقانون نے میڈیا آؤٹ لیٹس کی فرمائش پر وضاحت کی کہ چیف آف ڈیفینس فورسز   آئین پاکستان میں27 ویں ترمیم کی روشنی میں بنایا گیا نیا عہدہ ہے۔ اس عہدہ پر مقرر ہونے والی شخصیت کا تقرر پانچ سال کے لئے ہو گا۔

چیف آف ڈیفینس فورسز  کا تقرر وزیراعظم اسی طرح کریں گے جیسے چیف آف آرمی سٹاف کا تقرر وزیراعظم کرتے تھے۔ 

چیف آف ڈیفینس فورسز کے تقرر کے بعد چیف آف ڈیفینس فورسز  وزیراعظم کو نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کے کمانڈر کے عہدہ پر تقرر کے لئے سفارش بھیجیں گے۔  چیف آف ڈیفینس فورسز اپنے ڈپٹی کا تقرر بھی کرنے کے مجاز ہوں گے۔

چیف آف ڈیفینس فورسز پاکستان آرمی، نیوی اور ائیرفورس کی آئین اور قانون کے مطابق ری سٹرکچرنگ کریں گے۔ اب تینوں مسلح افواج کو ایک ہی کمانڈ کے تحت کام کرنا ہے۔

کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کے عہدہ پر تقرر کی مدت تین سال ہو گی۔
  قومی اسمبلی نے آج 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد آرمی ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی ہے۔ قانون میں یہ ترامیم ستائیس ویں ترمیم کے تحت قوانین کو آئین کی تصریحات سے ہم آہنگ بنانے کے لئے کی گئی ہیں۔

مجوزہ آرمی ایکٹ کے  تحت موجودہ چیف آف آرمی سٹاف کو ہی  چیف آف ڈیفنس فورسز  بنانے کا نیا  نوٹیفکیشن جاری ہو گا۔

مجوزہ آرمی ایکٹ میں کہا گیا کہ نوٹی فکیشن کے دن سے چیف آف ڈیفینس فورسز کے عہدہ پر مقرر ہونے والی شخصیت کی ملازمت  کی پانچ سالہ مدت شروع ہوگی۔  چیف آف ڈیفنس فورسز  پاکستان کی تینوں مسلح ا فواج کے تمام شعبوں کی ری اسٹرکچرنگ اور جہاں جہاں ضررورت ہے وہاں انضمام کریں گے۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ  آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز  ہوں گے،اس عہدے پر ان کے تقرر  کی مدت 5 سال ہو گی۔  وزیر اعظم چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی کریں گے۔

اعظم نذیر  تارڑ نے کہا کہ قانون نے وضاحت کی ہے چیف آف ڈیفنس کا عہدہ اپوائنٹمنٹ سے5  سال کا ہوگا۔

 وزیر قانون نے کہا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کردیا گیا ہے۔

اس سے پہلے

قومی اسمبلی میں پاکستان آرمی ایکٹ, پاکستان ایئر فورس ایکٹ, پاکستان نیوی ایکٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کرلیے گئے، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ 

سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی اجلاس دوبارہ شروع ہوگیا۔ جس کے آغاز میں سپیکر سردار ایاز صادق نے سری لنکا کی ٹیم کا دورہ جاری رکھنے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کے صدر، کرکٹ ٹیم، کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔   
 

 وزیراعظم شہباز شریف بھی ایوان میں پہنچ گئے۔ 

 قومی اسمبلی اجلاس میں وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئینی عدالت قائم ہو گئی ہے۔آرٹیکل  243 میں بھی کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عہدوں پر تعیناتیاں ہونی ہیں اس حوالے سے تین قوانین کی سمریاں آئی تھیں۔ 

مسلح افواج کی ری سٹرکچرنگ کے متعلق تین ترمیمی بل خواجہ آصف نے پیش کئے

 قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل، پاکستان ایئر فورس ایکٹ میں ترمیم کا بل، اور پاکستان نیوی آرڈیننس میں ترمیم کا بل پیش کیا۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل بھی پیش کیا گیا۔  یہ بل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا۔ 

بلز کے لئے رولز معطل کرنے کی تحریک منظور کی گئی، یہ تحریک وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کی۔ 

  پاکستان آرمی ترمیمی بل کثرت رائے سے منظورکرلیا گیا، اسی طرح پاکستان ایئر فورس ترمیمی بل بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ 

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، بل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے منظوری کے لئے پیش کیا۔ 

اس سے پہلے  وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاکستان آرمی ایکٹ،  پاکستان ائیر فورس ایکٹ اور پاکستان نیوی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دی گئی تھی۔