ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے وقف املاک بورڈ کی پراپرٹی سے متعلق مقدمہ اینٹی کرپشن کورٹ یا سنٹرل کورٹ میں چلانے کے اختیار کے بارے میں سپریم کورٹ میں زیر التواء کیس کی رپورٹ طلب کر لی۔
جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ایف آئی اے کی جانب سے نگرانی کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران ڈائریکٹر ایف آئی اے کیپٹن (ر) علی ضیاء عدالت میں پیش ہوئے، جن کے ہمراہ وفاقی حکومت کے لاء افسر بھی موجود تھے۔ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ وقف املاک بورڈ کی اراضی کی غیر قانونی منتقلی کے الزام میں 2016 میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ بعدازاں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے انکوائری مکمل کر کے تین ماہ بعد پٹواری سمیت چھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ڈائریکٹر ایف آئی اے کے مطابق اینٹی کرپشن حکام نے مقدمہ درج کرنے کے بعد ایک ملزم کو گرفتار کیا جو بعد میں جیل چلا گیا۔ تاہم جب ملزمان نے ضمانت کی درخواست دائر کی تو عدالت کے دائرہ اختیار کا معاملہ سامنے آیا کہ آیا یہ مقدمہ سنٹرل کورٹ کے دائرے میں آتا ہے یا اینٹی کرپشن کورٹ ،ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کے مطابق بعدازاں یہ کیس اینٹی کرپشن کورٹ ساہیوال بھجوا دیا گیا جس کے خلاف وہ عدالت کی نگرانی میں آئے ہیں۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ وقف املاک بورڈ وفاق کا ادارہ ہے، اس لیے مقدمہ سنٹرل کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔دوسری جانب ملزمان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ میاں پرویز اختر سمیت دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہوا، جن میں سے ایک ملزم کی ضمانت ہائیکورٹ پہلے ہی منظور کر چکی ہے۔وکیل نے مزید کہا کہ ٹرائل کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر التواء ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس کیس کے حتمی دائرہ اختیار کے تعین کے لیے سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمے کی تفصیلات سامنے آنا ضروری ہیں۔عدالت نے وفاقی اور پنجاب حکومت کے لاء افسران کو ہدایت کی کہ وہ سپریم کورٹ میں زیر التواء کیس کے بارے میں آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ پیش کریں،سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی گئی۔
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App