سٹی42: کھانے کے برتن ہی دِل کے دشمن نکلے، چھپے دشمن کے ہاتھوں ساڑھے تین لاکھ لوگ کھاتے پیتے پرلوک سدھار گئے۔
اب جا کے سائنسدانوں نے اعتراف کیا ہے کہ پلاسٹک کی بعض اقسام کو تھوڑا نرم ہونے کا احساس دینے کے لئے استعمال ہونے والا ایک پیچیدہ مالیکیولز والا کیمیکل دراصل دل کی رگوں کی سوجن اور بہت سی اموات کا سبب بن رہا ہے۔
یہ خاص کیمیکل گھروں مین موجود بہت سے سامان مین شامل ہے، ان میں ڈیٹرجنٹ، محلول، پلاسٹک پائپ اور کیڑے بھگانے والی ادویات بھی شامل ہین اور گھروں مین استعمال ہونے والے پلاسٹک کے برتن بھی۔
ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روز مرہ زندگی میں زیر استعمال پلاسٹک کی اشیا میں استعمال ہونے والے کیمیکل ہر برس قلبی بیماری سے ہونے والی لاکھوں اموات کا سبب ہوسکتے ہیں۔
سائنس دان کافی عرصے سے فتھیلیٹس نامی پلاسٹک کیمیکلز کی اس قسم سے جڑے صحت کے مسائل کے حوالے سے خبردار کر رہے ہیں۔ یہ کیمیکلز عموماً کوسمیٹکس، ڈیٹرجنٹ، محلول، پلاسٹک پائپ اور کیڑے بھگانے والی ادویات میں پائے جاتے ہیں۔
ماضی کے مطالعوں میں ان کیمیکلز کا تعلق مٹاپے، ذیا بیطس، ہارمونز و بانجھ پن کے مسائل اور کینسر کے خطرات میں اضافے سے بتایا گیا تھا۔
اب ایک نئی تحقیق میں پلاسٹک کیمیکلز کا 2018 میں عالمی سطح پر ہونے والی 3 لاکھ 56 ہزار سے زائد اموات سے جوڑا گیا ہے۔
نیو یارک یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے محققین نے ڈائی-2-ایتھائل ہیکسائل فتھلیٹ یا DEHP (جو کہ کھانے کے برتن، طبی آلات اور دیگر پلاسٹک اشیاء کو نرم اور لچکدار بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں) کا مطالعہ کیا جس میں معلوم ہوا کہ طویل عرصے تک ان کیمیکلز کا سامنا دل کی رگوں میں سوزش کا سبب بن سکتی ہے اور وقت کے ساتھ اس سے دل کے دورے یا فالج کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔