ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسرائیل نے اپنے سفارت خانے بند کر دیئے

Israeli embassies closed, ran's attack on Israel, Iran Israel conflict, city42

اسرائیل نے دنیا بھر میں اپنے سفارت خانے بند کر دیئے۔

ایک انترنیشنل خبر رساں ایجنسی کے مطابق جرمنی کے دارالحکومت برلن میں اسرائیلی سفارتخانے نے کہا ہے کہ حالیہ حالات کے پیش نظر دنیا بھر میں اسرائیلی مشنز بند کر دیئے جائیں گے۔

 جرمنی میں اسرائیلی سفارتخانے نے کہا کہ اسرائیلی قونصلیٹ  خدمات فراہم نہیں کرے گا۔ اور اسرائیلی شہری اگر کسی جارحانہ عمل کا سامنا کریں تو مقامی سیکیورٹی اداروں سے تعاون کریں۔

 اعلان کے مطابق اسرائیلی سفارت خانے غیر معینہ مدت تک بند رہیں گے۔

انٹرنیشنل میڈیا نے آج جمعہ کی دوپہر رپورٹ کیا کہ سرائیل دنیا بھر میں اپنے سفارت خانے بند کر رہا ہے اور اس نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہوشیار رہیں اور عوامی مقامات پر یہودی یا اسرائیلی علامتوں کی نمائش نہ کریں، یہ بات سفارت خانے کی ویب سائٹس پر پوسٹ کیے گئے بیانات میں جمعہ کو اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر حملوں کے آغاز کے بعد کہی۔

سفارتخانوں کے بیانات میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل قونصلر خدمات فراہم نہیں کرے گا ۔

سفارتخانے کب تک بند رہیں گے اس کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا۔ برلن میں سفارت خانے میں فون اٹھانے والے ایک شخص نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "حالیہ پیش رفت کی روشنی میں، دنیا بھر میں اسرائیلی مشن بند کر دیے جائیں گے اور قونصلر خدمات فراہم نہیں کی جائیں گی۔"

جرمن چانسلر فریڈرک مرز، جنہوں نے جمعہ کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے بات کی تھی، انہوں نے کہا کہ جرمنی یہودیوں اور اسرائیلی مقامات کے تحفظ کو بڑھا رہا ہے۔

روئٹرز کے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ سٹاک ہوم کے  گریٹ سینی گوگ کے باہر سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی، پولیس وین اور کار عمارت کے قریب کھڑی تھی۔

اس سے قبل اسرائیل نے کہا تھا کہ اس نے ایران میں جوہری تنصیبات اور میزائل فیکٹریوں پر حملہ کیا ہے اور بہت سے فوجی کمانڈروں کو ہلاک کر دیا ہے جس میں تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے طویل کارروائی ہو سکتی ہے۔

اس سے پہلے

آج جمعہ کے رروز اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد دنیا بھر میں اپنے سفارتخانے بند کرنے سے پہلے کل جمعرات کے روز امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اپنے سفارت کاروں کی  موجودگی کم کرنے کی ابتدا کی تھی۔

کل جمعرات کے روز بتایا گیا تھا کہ امریکہ ایسے لوگوں کی موجودگی کو کم کر رہا ہے جو علاقائی بدامنی کے امکانات کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں کارروائیوں کے لیے ضروری نہیں سمجھے جاتے ہیں۔

 امریکی محکمہ خارجہ اور فوج نے بدھ کے روز کہا کہ پڑوسی ملک ایران کے ساتھ تناؤ  جوہری مذاکرات کے درمیان بڑھ گیا ہے۔

سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے ٹائمز آف اسرائیل کو بتایا  تھا کہ "صدر ٹرمپ امریکیوں کو اندرون اور بیرون ملک محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس عزم کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہم اپنے تمام سفارت خانوں میں اہلکاروں کی مناسب پوزیشن کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔ ہمارے تازہ ترین تجزیے کی بنیاد پر، ہم نے عراق میں اپنے مشن کے نقش کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے"۔

ٹرمپ نے بعد میں تصدیق کی کہ کچھ امریکی اہلکاروں کو مشرق وسطیٰ سے باہر منتقل کیا جا رہا ہے "کیونکہ یہ ایک خطرناک جگہ ہو سکتی ہے۔"

اس غیر معمولی سرگرمی کے ایک ہی روز بعد اسرائیل نے ایران کی کئی نیوکلئیر سائتس پر حملے کر دیئے۔