(سٹی 42) بنگلہ دیش کی جانب سے میچ کی جگہ بدلنے کا مطالبہ آئی سی سی کے ذریعہ مسترد کیے جانے کے بعد اب بنگلہ دیش کے پاس صرف 2 متبادل راستے بچتے ہیں، یا تو طے شیڈول کے مطابق ٹورنامنٹ میں حصہ لے یا پھر ٹورنامنٹ سے اپنا نام واپس لے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے مطالبے کو مسترد کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ٹورنامنٹ کے آغاز میں اب بہت کم وقت رہ گیا ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق ٹی-20 ورلڈ کپ شروع ہونے میں اب ایک ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے اور اب تک بنگلہ دیش کا معاملہ حل نہیں ہوا ہے۔ آئی پی ایل سے بنگلہ دیشی تیز گیند باز مستفیض الرحمٰن کو نکالے جانے کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈنےانٹرنیشل کرکٹ کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹی-20 ورلڈ کپ 2026میں ان کے مقابلے بھارت سے سری لنکا منتقل کر دیے جائیں۔ اس کے پیچھے سیکورٹی وجوہات کا حوالہ دیا ہے۔ اب آئی سی سی نے بنگلہ دیش کے اس اندیشہ کو خارج کر دیا کہ بھارت میں سیکورٹی کا کوئی خطرہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی سی سی بنگلہ دیش کے مقابلے بھارت سے باہر منتقل کرنے کو تیار نہیں ہے۔
ICC rejects Bangladesh plea to move T20 World Cup matches from India, citing fixed schedule, as BCB sticks to security concerns.
— shorts91 (@shorts_91) January 13, 2026
Read more on https://t.co/RKSBSQo1PB
#T20WorldCup #BangladeshCricket #ICC #IndiaVsBangladesh pic.twitter.com/XW1GRbjShS
آئی سی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انہیں ایسا کچھ نہیں ملا ہے، جسے سیکورٹی سے متعلق خطرہ کہا جا سکے۔ آئی سی سی نے جانچ میں سیکورٹی کا خطرہ بالکل نہ کے برابر قرار دیا ہے۔ حالانکہ ابھی آئی سی سی نے اس تعلق سے کوئی آفیشیل بیان جاری نہیں کیا ہے۔ واضح رہے کہ ٹی-20 ورلڈ کپ 2026 کا آغاز آئندہ 7 فروری سے ہونا ہے۔ رپورٹ کے مطابق منگل کو بی سی بی اور آئی سی سی نے ویڈیو کانفرنس پر ٹی-20 ورلڈ کپ 2026 کے متعلق بات چیت کی۔ بی سی بی نے آئی سی سی سے اپنے گروپ اسٹیج کے مقابلے بھارت سے سری لنکا میں منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی طرف سے بورڈ کے صدر محمد امین الاسلام اور دیگر عہدیداران نے اپنے موقف پیش کیے۔ بی سی بی نے ایک بار پھر اپنی درخواست کے پس پردہ سیکورٹی سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا۔ اس کے جواب میں آئی سی سی نے کہا کہ ٹورنامنٹ کا شیڈول پہلے ہی اعلان کیا جا چکا ہے۔ ساتھ ہی آئی سی سی نے بی سی بی سے اپنے موقف پر دوبارہ غور کرنے کی گزارش کی۔ تاہم بی سی بی کی آفیشل پریس ریلیز کے مطابق بنگلہ دیش نے اپنا موقف تبدیل نہیں کیا ہے اور وہ آئی سی سی کے ساتھ اپنی درخواست پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔
قابل ذکر ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے مطالبے کو مسترد کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ٹورنامنٹ کے آغاز میں اب بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ ساتھ ہی ہوٹل بکنگ، کھلاڑیوں اور سپورٹنگ اسٹاف کے لیے ویزا اور بقیہ تمام ضروری چیزوں کا انتظام پہلے ہی ہو چکا ہے۔ اب اچانک اس میں تبدیلی کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ ایسے میں بنگلہ دیش کے پاس صرف 2 آپشن ہی بچتے ہیں، یا تو طے شیڈول کے مطابق ٹورنامنٹ میں حصہ لے یا پھر ٹورنامنٹ سے اپنا نام واپس لے۔ اگر بنگلہ دیش نہیں کھیلتا ہے اور ٹورنامنٹ سے نام واپس لے لیتا ہے تو پھر آئی سی سی ان کی جگہ دوسری ٹیم کو لا سکتی ہے۔ حالانکہ یہ بھی اتنے کم وقت میں آسان نہیں ہوگا۔ ویسے اگر کوئی دوسری ٹیم آتی ہے تو پھر اسکاٹ لینڈ ہو سکتی ہے۔