سٹی 42:نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے سینکڑوں ملازمین کی مستقلی کا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کیا ۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے کو ایک ماہ میں ملازمین کی مستقلی سے متعلق فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا توقع ہے کہ ایک ماہ میں رولز بنا کر عدالتی حکم پر عمل درآمد کیا جائے گا۔نیا ادارہ بنا تھا، لگتا ہے اس کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔جب تک معاملہ عدالت میں ہے ملازمین سے متعلق کوئی فیصلہ نہ کیا جائے جس سے وہ متاثر ہوں ۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے این سی سی آئی اے کے ملازمین کی درخواستوں پر سماعت کی ۔این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ایڈمن اور لیگل ڈیپارٹمنٹ کے افسران عدالت میں پیش ہوئے ۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے استسفار کیا ملازمین کی مستقلی کا فیصلہ کیوں نہیں ہوا، کیا وجہ ہے؟ نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی نے کہا رولز منظوری کے لیے کابینہ کو بھیجے گئے ہیں،کابینہ سے تاحال منظوری نہ ہو سکی، جس کی وجہ سے مستقلی کا معاملہ تاخیر کا شکار ہے،کابینہ میں معاملہ ہونے کے باعث 30 روز کی مہلت دی جائے۔عدالت نے کہا ایک ماہ میں بھی حل نہ ہوا تو متعلقہ سیکریٹریز کو بلا کر پوچھیں گے کہ تاخیر کی وجہ کیا ہے۔
عدالت نے ایک ماہ کا وقت دیتے ہوئے سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی۔