ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ڈاکٹر وردہ  کے مشہور قتل کیس کی تحقیقات میں ڈرامائی پیش رفت

Doctor warda murder case, city42 accused Nadim, DPO Abottabad Haroon Urrasheed , JIT
کیپشن: ڈاکٹر وردہ اور ان کی قاتل بن جانے والی دوست ردا کی تصویریں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:ایبٹ آباد میں ڈاکٹر وردہ  کے مشہور قتل کیس کی تحقیقات میں ڈرامائی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

آج یہ خبر آئی ہے کہ ڈاکٹر وردہ کے قتل کی تحقیقات کے لئے بنائی گئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے اہم ترین رکن کو ٹیم سے نکال دیا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ایبٹ آباد کو جے آئی ٹی سے ہٹا دیا گیا ہے۔
 ڈی پی اوایبٹ آباد ہارون رشید کو جےآئی ٹی سے ہٹا کر سونیا شمروز کو شامل کیا گیا ہے۔

 ڈاکٹر وردا قتل کیس کی تحقیقات کے لئے جوائنت انویسٹی گیشن ٹیم دو دن پہلے ہی بنائی گئی تھی۔ آج  ڈی پی او ایبٹ آباد ہارون رشید کو جے آئی ٹی سے ہٹا دیا گیا ہے اور ان کی جگہ اے آئی جی سونیا شمروز کو  جے آئی ٹی میں شامل کر لیا گیا ہے۔

جے آئی ٹی کا سربراہ چیئرمین صوبائی انسپکشن ٹیم خیام حسن ہیں۔ جے آئی ٹی نے گزشتہ روز 30 سے زائد افراد کے بیانات ریکارڈ کر لئے ہیں جن میں ڈاکٹر وردا ہے  قریبی عزیز  اور پولیسکے کئی اہلکار  شامل ہیں۔

جے آئی ٹی پانچ دن میں اپنی رپورٹ تیار کر کے چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کو پیش کرے گی، تاکہ کیس کی تحقیقات مکمل کی جا سکیں اور قانونی کارروائی کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

ملزموں کی تصویریں

 کل جمعہ کے روز  انسداد دہشت گردی عدالت نے ڈاکٹر وردہ کے قتل کے چاروں ملزموں کے جسمانی ریمانڈ  میں تین دن کی توسیع دی تھی۔

اب تک سامنے آنے والی تحقیقات کے مطابق ایبٹ آباد کے مقامی ہسپتال میں کام کرنے والی نوجوان  ڈاکٹر وردا کو ان کی دوست ردا نے 4 دسمبر 2025 کو بینظیر شہید ڈسٹرکٹ ہسپتال، ایبٹ آباد سے اغوا کیا تھا، اور بعد میں اپنے ساتھیوں ندیم، پرویز اور شمرائز کی مدد سے قتل کر دیا۔

 ڈاکٹر وردہ نے 2023 میں 67 تولہ سونا اپنی سہیلی ردہ کے پاس بطور امانت رکھا تھاجس کی واپسی کے معاملے پر دونوں کے درمیان تنازعہ پیدا ہوا اور جرگہ بھی ہوا۔

 4 دسمبر کو ملزمہ ردہ نے سونا واپس کرنے کے بہانے ڈاکٹر وردہ کو ڈی ایچ کیو سے اپنی گاڑی میں لے جا کر رحمن اسٹریٹ، جدون پلازہ میں اپنے زیر تعمیر گھر لے گئی.  جہاں شمعریز، پرویز اور ندیم نے اسے قتل کر دیا۔ پولیس ابتدا میں ندیم کو  ایک نامعلوم شخص بتاتی رہی۔ اب بھی وہی مفرور ہے اور اسی کو گررفتار کرنے میں تساہل کا پولیس پر الزام ہے۔  پہلے سے موجود تھے۔ ردہ نے ندیم زیب کی منصوبہ بندی کے تحت ڈاکٹر وردہ کو دیگر ملزمان کے حوالے کیا اور خود واپس چلی گئی۔

مقتولہ کے لواحقین کے مطابق یہ قتل منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا اور اس کی وجہ بھاری مقدار میں سونا تھا جو مقتولہ نے اپنی دوست کے پاس رکھوارکھا تھا۔ 

 مقتولہ ڈاکٹر نے دو سال پہلے ردا نامی دوست  کو سونا دیا تھا۔ ڈاکٹر وردہ کے مسلسل مطالبات کے بعد بھ ی ردا یہ سونا واپس نہیں  کر رہی تھیْ کچھ روز پہلے ردا نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر وردہ کے قتل کا منصوبہ بنایا۔

واقعے کے دن ردا ڈاکٹر وردہ کو ہسپتال سے بلا کر اپنے زیر تعمیر گھر لے گئی ، جہاں شمرائز، ندیم اور اورنگ زیب انتظار کر رہے تھے۔  ان لوگوں نے مل کر  مبینہ طور پر ڈاکٹر کو قتل کیا۔

مقتولہ کے والد نے مقامی پولیس کی  تفتیش پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ اہم ملزم ابھی بھی فرار ہے اور حکام تعاون کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ڈاکٹر وردہ دو بچوں کی والدہ تھیں اور اپنے والد مشتاق اور بچوں کے ساتھ رہتی تھیں۔ ان کے شوہر راحیل علی رضا جنوبی کوریا میں کام کرتے ہیں۔ 

وردہ کی پوسٹمارٹم رپورٹ

لیڈی ڈاکٹر وردہ کی میڈیکل پوسٹ مارٹم رپورٹجس میں انکشاف کیا گیا  کہ ڈاکٹر وردہ کی موت گردن کی ہڈی ٹوٹنے اور دم گھٹنے کے باعث ہوئی۔ میڈیکل ماہرین کے مطابق موت موقع پر ہی واقع ہو گئی تھی۔ رپورٹ کو مزید تکنیکی تجزیے کے لیے فارینزک لیب بھی بھجوا دیا گیا ہے، جہاں سے حتمی نتائج پولیس کو ارسال کیے جائیں گے۔ ت

فتیشی حکام کا کہنا ہے کہ میڈیکل شواہد کیس کی نوعیت اور ملزمان کے طریقہ واردات کو سمجھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گے، جبکہ مقتولہ کے اہل خانہ نے انصاف کی فراہمی کے مطالبے کو ایک بار پھر دہرایا ہے۔