ویب ڈیسک: سابق قومی فاسٹ بولر شعیب اختر نے ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں ون ڈے سیریز میں بھاری شکست کے بعد پاکستانی ٹیم پر کڑی تنقید کی ہے۔
تیسرے ون ڈے میں پاکستان ٹیم کی شکست کے بعد شعیب اختر نے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کے کوچ بطور ٹی ٹوئنٹی کوچ اچھے ہیں مگر ون ڈے فارمیٹ میں ان کا انداز سمجھ سے باہر ہے۔
شعیب اختر نے کہا کہ ون ڈے میں کامیابی کے لیے بیٹنگ، بولنگ اور اسپن سمیت تمام شعبوں میں آزمودہ کھلاڑیوں کو کھلانا ہوگا۔ اگر آپ معیاری آل راؤنڈرز اور پرفارمرز شامل نہیں کریں گے تو 50 اوور مکمل نہیں ہو پائیں گے، اس فارمیٹ میں بس گزارا نہیں چلتا۔
انہوں نے شکست کی ذمہ داری کھلاڑیوں کے بجائے پالیسیوں پر ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ نتیجہ غلط فیصلوں کا ہے، کھلاڑیوں کا قصور نہیں۔ سیم پچز پر ہمیشہ یہی حال ہوگا۔ اب اس ری بلڈنگ کو نیا نام دے دیا گیا ہے کہ کمبی نیشن بنا رہے ہیں۔
شعیب اختر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ شکر کریں پیٹ کمنز اور مچل اسٹارک یہاں نہیں تھے۔ جہاں بھی ایسی کنڈیشنز ہوں گی، ہمارے کھلاڑی بے نقاب ہوں گے۔
واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز نے 34 سال بعد پاکستان کو ون ڈے سیریز میں شکست دی ہے۔ یہ کامیابی کیریبین ٹیم کی پاکستان کے خلاف 10 سیریز میں مسلسل ناکامی کے بعد پہلی فتح ہے۔ آخری بار ویسٹ انڈیز نے نومبر 1991 میں پاکستان میں سیریز جیتی تھی۔