ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے پتنگ بازی کے خلاف دائر درخواست پر ڈی سی کیپٹن ریٹائرڈ محمد علی اعجاز اور ایس ایس پی آپریشنز توقیر کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مفصل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ۔
جسٹس ملک محمد اویس خالد نے کیس کی سماعت کی، جس میں ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز اور ایس ایس پی آپریشنز توقیر احمد، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل انوار حسین کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت عدالت نے ڈی سی اور ایس ایس پی کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے واپس کر دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ میں پتنگ بازی کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ بسنت کے اختتام کے باوجود شہر میں بدستور پتنگ بازی جاری ہے، جس پر جسٹس ملک محمد اویس خالد نے ڈی سی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آیا واقعی پتنگ بازی ہو رہی ہے اور اس کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔واضح کیا جائے کہ پتنگ بازی کی روک تھام کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔ عدالت نے پتنگ بازوں کے خلاف درج ایف آئی آرز، قبضے میں لی گئی پتنگوں اور ڈورز کی مکمل تفصیلات بھی طلب کر لیں۔
اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پتنگ بازی کے دوران ضبط کیے گئے سامان کو ایک مخصوص طریقہ کار کے تحت نمٹایا جائے گا، تاہم عدالت نے اس وضاحت کو بھی ناکافی قرار دیا۔
عدالت نے ڈی سی لاہور اور ایس ایس پی آپریشنز کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر جامع اور مفصل رپورٹ پیش کی جائے۔بعد ازاں کیس کی مزید سماعت 23 اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔