ایس ایس پی مفخر عدیل اور ساتھی ملزم عدالت پیش نہ ہوئے،عدالت کا پولیس کوحکم

ایس ایس پی مفخر عدیل اور ساتھی ملزم عدالت پیش نہ ہوئے،عدالت کا پولیس کوحکم

یاور ذوالفقار :شہباز تتلہ ایڈووکیٹ قتل کیس کے ملزم ایس ایس پی مفخر عدیل اور ساتھی اسد بھٹی کو عدالت پیش نہ  کیا جاسکا ،عدالت  نے بھی پولیس کوحکم دیدیا۔

ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ نے شہباز تتلہ کیس میں گرفتار ملزم ایس ایس پی مفخر عدیل اور شریک ملزم کے خلاف درخواست پر سماعت کی، کورونا وائرس کے پیش نظر ملزموں کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا،سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزمان پر اغوا اور قتل کرنے کا مقدمہ درج ہے ملزمان کو سابق اسسٹنٹ اٹارنی جنرل شہباز تتلہ کو قتل کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا ،ملزمان سے تفتیش جاری ہے دوران تفتیش ملزمان پولیس کے روبرو شہباز تتلہ کو قتل کرنے کا اعتراف کر چکے ہیں،عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد پولیس کو آئندہ سماعت پر مقدمے کا چالان پیس کرنے کا حکم دیتے ہوئے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی۔

یاد رہے اس سے قبل سماعت کے دوران پولیس نے عدالت کے سامنے بیان دیا کہ ایس ایس پی مفخر عدیل نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے شہباز تتلہ کو درندگی سے قتل کر کے لاش کو تلف کر دیا ہے، ملزم نے لاش کی جگہ کی نشان دہی بھی کی، ملزم نے شریک ملزم اسد بھٹی کی معاونت سے شہباز تتلہ کو قتل کیا تھا، ملزم نے تیزاب کا ڈرم پھینکنے کی جگہ کی بھی نشان دہی کی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ معاملہ انتہائی سنجیدہ نوعیت کا ہے، ملزم کے بیان کی تصدیق کرنی اور لاش بھی برآمد کرنی ہے، کیس کے مزید حقائق آنا ابھی باقی ہیں جس کے لیے تفتیش کرنی ہے، لہٰذا عدالت ملزم کا چودہ روزہ ریمانڈ دے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز پولیس ذرایع نے بتایا تھا کہ ایس ایس پی مفخر عدیل نے اہم سیاسی شخصیت کی ضمانت پر گرفتاری دی تھی، پولیس افسر نے گرفتاری دوسرے صوبے میں دی، جس کے بعد انھیں لاہور لانے کے لیے پولیس ٹیم روانہ کی گئی۔ اس کیس میں اسد بھٹی اور ایک ساتھی پہلے سے گرفتار ہیں، ملزمان سابق اسسٹنٹ اٹارنی جنرل شہباز تتلہ کے قتل کا اعتراف کر چکے ہیں، شہباز تتلہ کے اغوا کا مقدمہ 7 فروری کو تھانہ نصیر آباد میں درج کیا گیا تھا۔