ڈکیتی کی واردات، ڈاکوؤں نے تین بھائیوں پر گولیاں چلادیں

 ڈکیتی کی واردات، ڈاکوؤں نے تین بھائیوں پر گولیاں چلادیں

(ندیم خالد)شہرمیں ڈکیتیوں کا سلسلہ نہ رک سکا، چوہنگ کےعلاقے میں جنرل سٹور میں ڈکیتی کی واردات کے رودان مزاحمت پرڈاکووں نے سٹور مالکان تین بھائیوں پر فائرنگ کردی۔

تفصیلات کے مطابق شہر میں لاک ڈاؤن کے دنوں میں بھی شہر میں ڈاکے، چوریا اور قتل جیسی وارداتیں ہورہی ہیں،شہریوں کے تحفظ کے لئے سکیورٹی ادارے ملزمان کو نکیل ڈالنے کے لئے سرگرم عمل ہیں، بڑھتے ہوئے جرائم نے پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، ملزمان دن دیہاڑے شہریوں سے لوٹ مار کررہے ہیں، مزاحمت کرنے پر بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے، ایسے ہولناک واقعات کی وجہ سے لوگ کا طرز زندگی اور کاروبار متاثر ہوکررہ گیا ہے،لاک ڈاون نے بھی اپنا حصہ شامل کیا جس کی وجہ سے کاروباری طبقہ گھروں میں قید ہے، افسوس ناک امر یہ ہے کہ جو لوگ ان دنوں کاروبارکی غرض سے گھروں سے نکلتے ہیں وہ غیر محفوظ ہیں، شہر میں ڈاکے، چوریاں بھی عراج پر ہیں.

چوہنگ کےعلاقہ برکت کالونی میں ڈاکووں نےسٹور مالکان تین بھائیوں کو ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ کرکے زخمی کردیا،،واردات کے بعد ڈاکو موٹرسائیکل پر فرار ہو گئے،تینوں زخمیوں کوعلاج کے جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا،پولیس نے جائے وقوعہ کا جائزہ لیتے ہوئےنامعلوم ڈاکووں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا,زخمی ہونے والوں میں عبدالعزیز, یوسف  اور عبدالرحمان شامل ہیں.

واضح رہے کہ گزشتہ روز شاہدرہ میں موٹرسائیکل سوار بیکری میں داخل ہوئے اور لوٹ مار شروع کردی،دوران مزاحمت بیکری کے مالک پر فائرنگ کردی جس پر بیکری مالک قیصرموقع پر ہی جاں بحق ہوگیا تھا،ملزمان نے ماسک سے چہرے چھپا رکھےہیں اورفائرنگ کرنےکے بعد موٹرسائیکل پرفرار ہوگئے، پولیس نےقتل کی واردات کا مقدمہ درج کرلیا مگر سی سی ٹی وی کے باوجود ملزمان کا سراغ نہ لگ سکا۔

دوسری جانب پولیس رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ لاک ڈاون میں جرائم کی شرخ میں کمی ہوئی ہے،رپورٹ کے مطابق  اکیس مارچ سے پانچ اپریل تک شہر کے مختلف تھانوں میں 6 ہزار3 سو 60 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ پانچ مارچ سے بیس مارچ تک شہرکے مختلف علاقوں میں 7ہزار 4 سو 26 کیسز رپورٹ ہوئے، لاک ڈاﺅن کے دوران جرائم کے ایک ہزار 66 کیسز کم رپورٹ ہوئے۔