ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

عوام کیلئے بڑی خوشخبری : حکومت کا پیٹرولیم لیوی کم کرنے کی تجویز پر غور

پیٹرولیم لیوی کم کرنے اور نئے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز سامنے آگئی

عوام کیلئے بڑی خوشخبری : حکومت کا پیٹرولیم لیوی کم کرنے کی تجویز پر غور
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 سٹی 42: حکومت  نے ا پیٹرولیم لیوی کم کرنے کی تجویز پر غور شروع کردیا ۔ پیٹرولیم لیوی 12 ماہ میں کم کرکے 5 سے 10 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز ہے ۔

پیٹرولیم لیوی کم کرنے سے وفاقی آمدن میں 1450 ارب  سے 1500 ارب روپے کے خلا کا امکان ہے ۔ خلا پورا کرنے کیلئے نئے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز  بھی ہے ۔ ٹیکس چھوٹ ختم کرنے اور اخراجات میں کمی کی تجاویز دی ۔ وزارتِ منصوبہ بندی نے پیٹرولیم لیوی میں کمی کی تجویز متعلقہ اداروں کو بھجوا دی۔وزارتِ خزانہ، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک سے تجاویز پر رائے طلب کرلی 

دستاویز ات کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پیٹرولیم لیوی کی وصولی 1,557 ارب روپے رہی، مالی سال 2026-27 کیلئے پیٹرولیم لیوی وصولی کا ہدف 1,576 ارب روپے مقرر کردی ۔ لیوی 5 سے 10 روپے فی لیٹر کرنے پر باقی آمدن صرف 96 سے 180 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔پیٹرولیم لیوی کے متبادل کیلئے سالانہ تقریباً 1500 سے 1600 ارب  روپے درکار ہوں گے

پیٹرولیم لیوی نان ٹیکس آمدن ہے، رقم مکمل طور پر وفاق کو ملتی ہے، ایف بی آر کے بیشتر ٹیکسوں کی آمدن این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں سے شیئر ہوتی ہے۔وفاقی آمدن کا خلا پورا کرنے کیلئے ایف بی آر کو تقریباً 2.3 گنا زیادہ اضافی وصولی کرنا ہوگی۔لگژری اشیا اور مہنگی درآمدات پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی۔

فرسٹ اور بزنس کلاس فضائی سفر اور لگژری گاڑیوں پر ایف ای ڈی بڑھانے کی تجویز دے دی ۔ لگژری ٹیکس اقدامات سے 200 سے 280 ارب روپے اضافی آمدن کا تخمینہ لگا دیا۔ بڑے کارپوریٹ گروپس اور انتہائی زیادہ آمدن والے افراد پر اضافی سرچارج کی تجویز دی ۔ 5 سے 7.5 فیصد اضافی سرچارج سے 180 سے 250 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ بھی ہے ۔بینکنگ، ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن، کھاد اور سیمنٹ سیکٹرز پر اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے ۔ ٹیکس چھوٹ ختم کرکے اضافی آمدن حاصل کرنے کی تجویز ہے۔مالی سال 2025-26 میں مجموعی ٹیکس اخراجات 2.35 کھرب روپے رہنے کا تخمینہ ہے ۔ غذا، صحت، تعلیم اور دفاع سے متعلق چھوٹ نکال کر 1.2 سے 1.4 کھرب روپے کا قابلِ اصلاح حجم  ہے ۔ٹیکس چھوٹ میں اصلاحات سے 450 سے 650 ارب روپے حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ۔ شرح سود میں کمی سے بھی مالی گنجائش پیدا کرنے کی تجویز دی گئی ۔ مالی سال 2025-26 میں قرضوں کی ادائیگی پر تقریباً 6900 ارب  روپے خرچ ہوئے،شرح سود میں ایک فیصد کمی سے سالانہ 350 سے 500 ارب روپے بچت کا تخمینہ ہے ۔شرح سود میں 2 فیصد کمی سے 700 ارب سے 1000 ارب  روپے تک مالی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔زرعی آمدن پر ٹیکس سے 24 ماہ میں سالانہ 120 سے 200 ارب روپے حاصل کرنے کا تخمینہ ہے ۔10 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں پر ایک فیصد ویلتھ ٹیکس کی تجویز بھی دی ۔ ویلتھ ٹیکس اور بیرونِ ملک اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس سے 100 سے 160 ارب روپے سالانہ آمدن کا تخمینہ  لگایا گیا ۔  کاربن لیوی بڑھا کر 130 سے 200 ارب روپے سالانہ حاصل کرنے کی تجویز دی ۔ کوئلہ، سیمنٹ، کیپٹو پاور اور بڑے صنعتی اخراج کنندگان پر کاربن پرائسنگ کی تجویز دی ۔ اے آئی اور ڈیٹا میچنگ کے ذریعے ٹیکس چوری پکڑنے کی تجویز دی ۔ بینکوں، یوٹیلیٹی بلز، سفری ریکارڈ، جائیداد اور پوائنٹ آف سیل ڈیٹا استعمال کرنے کی تجویز دی ۔ ڈیٹا بیسڈ آڈٹس سے 200 سے 350 ارب روپے سالانہ اضافی وصولی کا تخمینہ لگایا ۔ کسٹمز اور ریفنڈز میں لیکیج کم کرکے 50 سے 100 ارب روپے حاصل کرنے کی تجویزدی ۔ جی آئی ایس اور جی پی ایس ٹیکنالوجی سے جائیدادوں کی نشاندہی اور ٹیکس وصولی بڑھانے کی تجویزدی ۔ شہری جائیداد ٹیکس سے 24 ماہ میں 80 سے 150 ارب روپے سالانہ آمدن کا تخمینہ لگایا ۔

ریٹیل سیکٹر کو مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجویز بھی سامنے آئی ۔کمرشل بجلی کنکشنز پر کم شرح کا فکسڈ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ۔ بڑے ریٹیلرز کیلئے پوائنٹ آف سیل انضمام لازمی بنانے کی تجویز دی گئی ۔ ریٹیل سیکٹر سے 24 ماہ میں 150 سے 250 ارب روپے سالانہ حاصل ہونے کا تخمینہ  دی ۔ پیٹرولیم لیوی میں کمی کے بعد خالص آمدنی کا خلا 1450 ارب  سے 1500 ارب  روپے رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ۔ نئے ٹیکس اور ٹیکس اصلاحات سے 774 ارب سے 1248 ارب  روپے آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ۔ شرح سود میں کمی سمیت مجموعی مالی گنجائش 12 ماہ میں 1.12 سے 1.94 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا ۔ 

24 ماہ میں مجموعی مالی گنجائش 2.295 سے 3.56 کھرب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے ۔ حکومت کو پیٹرولیم لیوی مرحلہ وار کم کرنے کی سفارش کی گئی ۔ پہلے سال مالی خلا مکمل طور پر پورا نہ ہونے، دوسرے سال اضافی گنجائش پیدا ہونے کا امکان ہے ۔ پیٹرولیم لیوی میں کمی کیلئے آئی ایم ایف سے مذاکرات ضروری ہوں گے، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیٹرولیم لیوی ایک اہم آمدنی کی مد ہے ۔پیٹرولیم لیوی میں کمی کیلئے متبادل اقدامات کو فنانس ایکٹ کے ذریعے پیشگی نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ۔ زرعی آمدن اور جائیداد ٹیکس صوبائی معاملات ہونے کے باعث وفاق کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ وزارتِ منصوبہ بندی کی تجویز تاحال حکومتی پالیسی منظور نہیں، صرف مشاورت کے مرحلے میں ہے۔