ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

عالمی تیل مارکیٹ میں بڑا خدشہ، قیمتیں 8 فیصد سے زائد بڑھ گئیں

عالمی تیل مارکیٹ میں بے یقینی، خام تیل کی قیمتیں ہفتہ وار 8 فیصد سے زائد بڑھ گئیں

 عالمی تیل مارکیٹ میں بڑا خدشہ، قیمتیں 8 فیصد سے زائد بڑھ گئیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور خطے کے اہم بحری راستوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے عالمی توانائی مارکیٹ میں سپلائی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں رواں ہفتے نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ امریکا میں ڈیزل کی اوسط قیمت بھی پہلی مرتبہ 6 ڈالر فی گیلن کی سطح عبور کرگئی۔

جمعے کے کاروباری سیشن میں برینٹ خام تیل کی قیمت 3.02 ڈالر کمی کے بعد 104.61 ڈالر فی بیرل رہی، جو 2.81 فیصد کمی بنتی ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی 2.43 ڈالر کم ہوکر 100.05 ڈالر فی بیرل ہوگئی، تاہم ہفتہ وار بنیاد پر دونوں اہم بینچ مارکس کی قیمتوں میں 8 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔ دورانِ کاروبار برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتیں مئی کے وسط کے بعد بلند ترین سطح تک بھی پہنچیں۔

ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت معمول پر رکھنے کے لیے عارضی انتظام پر بات چیت کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد جمعے کو تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی، تاہم عالمی مارکیٹ میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات تاحال برقرار ہیں۔

سعودی عرب سے متعلق بھی توانائی مارکیٹ میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں ملک کی اہم ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے قریب دھویں کے مناظر سامنے آئے ہیں۔ یہ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے اس اعتبار سے انتہائی اہم ہے کہ اس کے ذریعے خام تیل کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر برآمدی مراکز تک پہنچایا جاسکتا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق خطے میں حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کی خام تیل کی سپلائی اگست میں ماہانہ بنیاد پر 23 لاکھ بیرل یومیہ کم ہوئی اور یہ 60 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جو 30 سال سے زائد عرصے کی کم ترین سطح قرار دی جارہی ہے۔

دوسری جانب عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ ابتدائی شپ ٹریکنگ اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد 11 سے کم ہوکر صرف 7 رہ گئی۔

بحری نقل و حمل سے متعلق خدشات میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے باب المندب کے قریب واقع جزیرہ پریم تک رسائی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ماہرین کے مطابق خطے کے اہم بحری راستوں میں رکاوٹیں عالمی توانائی سپلائی چین پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہیں۔

ادھر روسی ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں نے بھی عالمی ایندھن مارکیٹ کو متاثر کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں اور روسی ریفائننگ صلاحیت متاثر ہونے کے باعث امریکا میں ڈیزل سمیت ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ گیس بڈی کے مطابق امریکا میں ڈیزل کی قومی اوسط قیمت پہلی بار 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرگئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی خطے میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے مسائل اور روسی ریفائنریوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں برقرار رہیں تو ریفائنڈ مصنوعات، بالخصوص ڈیزل کی قیمتیں خام تیل کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔

جرمن بینک کومرز بینک نے بھی عالمی صورتحال کے پیش نظر رواں سال کے اختتام پر برینٹ خام تیل کی قیمت کا اندازہ 75 ڈالر سے بڑھا کر 85 ڈالر فی بیرل کردیا ہے۔ بینک نے ڈیزل اور جیٹ فیول کی قیمتوں کے اپنے تخمینوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، اہم بحری راستوں میں رکاوٹوں اور روسی ریفائننگ شعبے کو درپیش مشکلات کے باعث آنے والے دنوں میں عالمی تیل اور ایندھن مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔