سٹی42: بند ٹوٹنے سے آنے والے چناب کے سیلاب نے ملتان کی ایک اور اہم آبادی کو ڈبو دیا۔ درجنوں بستیاں زیر آب، شہر کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔
ملتان سے موصول ہونے والی نئی اطلاعات کے مطابق ملتان کی ایک اور بڑی آبادی سیلاب کے نرغے میں آ گئی ہے، ملتان شہر کی نواحی آبادی شجاع آباد کی درجنوں آبادیاں دریائے چناب کے سیلاب کے پانی میں ڈوب گئی ہیں۔
موضع دھوندو کے مقام پر فلڈ بند میں 80 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے سیلابی ریلا ان بستیوں میں آیا— فوٹو:فائل
تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ ملتان کی تحصیل شجاع آباد میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور درجنوں نشیبی آبادیوں کے ہزاروں مکین بند پر آ کر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
دریائے چناب نے پہلے جلالپور پیر والا میں تباہی مچانئی۔ اب چناب کا سیلابی پانی تحصیل شجاع آباد کا رخ کر چکا ہے۔
80 فٹ کا شگاف سیلاب کا سبب
شجاع آباد میں گزشتہ رات دریائے چناب پر بنے بند پر گاؤں دھوندو والا کے قریب 80 فٹ چوڑا شگاف پڑا جس کے نتیجے میں سیلابی پانی ملحقہ بستیوں میں ہوتا ہوا شہر کی جانب بڑھنے لگا ہے۔
اس سے پہلے یہ خبر بھی آئی کہ شجاع آباد میں دریائے چناب پر شگاف پُر کرنے کی کوشش کےدوران 3 مزدور ریلے میں بہہ گئے ۔
انتظامیہ کی جانب سے موضع دھوندو بند کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ شہر کی قریب آخری بند نہر بختو واہ کو آلے والی پل سے لیکر بگڑے تک کے بند کو مضبوط کیا جارہا ہے تاکہ پانی کو شہر میں داخل ہونے سے بچایا جا سکے۔
اچانک سیلابی ریلا شجاع آباد کی بستیوں میں آنے سے لوگ شدید خوف و ہراس میں ہیں۔
شجاع آباد میں فلڈ بند ٹوٹنے سے موضع دھوندو ،گردیز پور ، نواں شہر ، خانپور قاضیاں ، چھجو شاہ والا ، موچی پورہ، پونٹہ، موضع سومن، موضع خیر پور، رکن ہٹی اور وینس ماڑھا سمیت کئی بستیاں زیرآب آ گئیں۔
سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب اور وفاقی وزیر رانا قاسم نون سمیت تمام انتظامیہ موقع پر پہنچی اور امدادی کاروائیوں کی نگرانی کی فلڈ بند کو مضبوط کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔
مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ شجاع آباد شہرکو بچانے کیلئے آخری بند بختو واہ نہر کا رہ گیا ہے جہاں سے شہر محض دو کلومیٹر دور ہے۔










