ویب ڈیسک: لندن میں مقیم پاکستانی خاتون صحافی سفینہ خان نے پاکستانی گلوکار چاہت فتح علی خان پر انڈے مارنے کے واقعے کی اصل حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ 3ماہ قبل پیش آیا تھا، نہ کہ حالیہ دنوں میں جیسا کہ تاثر دیا جا رہا ہے۔
سفینہ خان کے مطابق وہ اور دیگر سوشل میڈیا انفلوئنسرز ’پراٹھا سٹاپ کیفے‘ کے افتتاح کے موقع پر موجود تھے۔ اس دوران چاہت فتح علی خان کیفے کے اسٹاف کے ساتھ تصاویر بنوا رہے تھے۔ انہی لمحات میں دو نوجوان، جو پہلے ان کے ساتھ تصاویر لے چکے تھے، اچانک پیچھے سے آئے، چہرے چھپائے اور انہیں انڈے مارے۔
چاہت فتح علی خان نے واقعے کے فوری بعد پولیس کو بلانے کی کوشش کی تاہم کیفے مالکان نے انہیں ایسا نہ کرنے کی درخواست کی تاکہ ان کا کاروبار بدنامی سے بچ سکے۔ اس وقت گلوکار نے واقعے کی ویڈیو مانگی لیکن انہیں بتایا گیا کہ کسی کے پاس یہ ویڈیو موجود نہیں۔
سفینہ خان کا کہنا ہے کہ اب 3ماہ بعد یہ ویڈیو وائرل کی جا رہی ہے تاکہ چاہت فتح علی خان کے نام پر پراٹھا سٹاپ شہرت حاصل کر سکے۔ انہوں نے اس اقدام کو غیر اخلاقی اور موقع پرستانہ قرار دیتے ہوئے کیفے انتظامیہ کو اوپن چیلنج دیا ہے کہ اگر ان کی معلومات غلط ہیں تو وہ بلا کر اپنا مؤقف دیں اور یہ ثابت کریں کہ ویڈیو نئی ہے، پرانی نہیں۔