پنجاب پولیس میں سفارشی کلچر پروان چڑھنے لگا

 پنجاب پولیس میں سفارشی کلچر پروان چڑھنے لگا

قیصر کھوکھر : پنجاب پولیس میں سفارشی کلچر پروان چڑھنے لگا، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میرٹ پر تقرروتبادلے کرنے کے بجائے سفارش کو ترجیح دینے لگی۔

پنجاب حکومت نےآئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور کو پک اینڈ  چوز  کی بنیاد پر تعینات کیا ہے۔ سی سی پی او لاہور  کی تعیناتی کے ساتھ ہی مختلف مسائل نے سر اٹھا لیا ہے۔ پہلے سی سی پی او جیت گیا اور  آئی جی پولیس ہارگیا اور اس طرح پولیس بیوروکریسی کا مورال ڈاون ہوگیاہے۔سفارشی کلچر سے میرٹ پر آنے والے افسران پریشانی کا شکار ہیں۔

اگر آج ایک سی سی پی او اپنے آئی جی کو ٹرانسفر کرواسکتا ہے تو یہ ایک غلط روایت کی بنیاد پڑی ہے،  اب کسی بھی پولیس افسر کو اپنے باس کو ٹرانسفر کروانے  کے لئے راستہ مل گیا ہے،  سی سی پی او لاہور کو ایک وفاقی عہدیدار کےسفارش پر تعینات کیا گیا ہے۔ اور آئی جی پولیس وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے بیج میٹ ہیں اور دونوں کا تعلق کے پی کے سے ہے۔

پولیس میں حالیہ تقرریاں میرٹ کے برعکس ہونے سے جہاں سفارشی کلچر کو فروغ ملا ہے  وہیں پولیس کے ذمہ داراور ایماندار افسران میں مایوسی بھی پھیلی ہے جو فورس کی کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔