ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں منشیات کے مقدمے میں گرفتار ملزم شمشاد کی درخواستِ ضمانت پر سماعت ،ایس پی انویسٹی گیشن سدرہ خان کی پیشی، مقدمہ کا اندراج مشکوک ہونے اور تفتیش تبدیل کرنے کی سفارش بارے رپورٹ پیش کی ، عدالت نے درخواست ضمانت واپس لینے کی بناء پر نمٹادی ۔
جسٹس فاروق حیدراورجسٹس محمد طارق ندیم پرمشتمل دو رکنی بینچ نے منشیات کے ملزم شمشاد کی درخواست ضمانت پرسماعت کی، ایس پی انویسٹیگیشن اقبال ٹاؤن سدرہ خان ایڈیشنل پراسیکیوٹرجنرل عبدالصمد کے ہمراہ پیش ہوئیں۔ جسٹس فاروق حیدر نے ایس پی سے استفسار کیا "دیکھا ہے آپ نے یہ معاملہ؟ ملزم جس دن جیل سے رہا ہوا، اُسی دن دوبارہ گرفتار کرکے نیا مقدمہ بنا دیا گیا؟ ایس پی نے رپورٹ پیش کی، جس میں کہا گیاکہ ملزم شمشاد کیخلاف منشیات کا مقدمہ غلط انداز میں درج کیا گیا اور تفتیش کی تبدیلی کیلئے بورڈ کوسفارش بھی کی گئی ہے۔اور تھانہ اقبال ٹاؤن کے سب انسپکٹر عامررفیق کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے۔ جسٹس فاروق حیدرنے وکیل صفائی سے کہا "ایس پی انویسٹیگیشن نے ایمانداری سے ذمہ داری نبھائی، اپنے محکمے کو بچانے کی کوشش نہیں کی۔" اگر یہ ثابت ہوا کہ ملزم کیخلاف منشیات پلانٹ کی گئی تو عدالت خود ضمانت منظور کرے گی۔جس نے غلط کیا، اس کیخلاف کارروائی ہوگی۔ وکیل صفائی نے استدعا کی کہ درخواست کو التواء میں رکھا جائے، تاہم عدالت نے کہا کہ جب تبدیلی تفتیش کے بعد آپ کے مؤقف میں بہتری آئے، تو نئی درخواست دائر کرسکتے ہیں۔عدالت نے درخواست واپس لینےکی بنیاد پرنمٹا دی۔