سٹی42 : صوبائی دارالحکومت لاہور کے داخلی و خارجی راستوں پر بھی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کر دیے گئے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کی حدود میں پولیس اور سکیورٹی اہلکار ہائی الرٹ پر ہیں جبکہ داخلی راستوں پر سخت چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق ہائیکورٹ آنے والے وکلاء اور سائلین کی تفصیلی تلاشی لی جا رہی ہے۔ جی پی او گیٹ، مسجد گیٹ اور اے جی آفس گیٹ سے داخل ہونے والے تمام افراد کی مکمل جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی کے عملے نے واک تھرو گیٹس، میٹل ڈیٹیکٹرز اور ایکس رے بیگیج اسکیننگ مشینیں نصب کر رکھی ہیں تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کو بروقت روکا جا سکے۔
انتظامیہ کے مطابق صرف لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے اسٹیکر والی گاڑیوں کو ہی عدالت کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے، جبکہ غیر متعلقہ افراد کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
خواتین وکلاء اور سائلین کی تلاشی کے لیے لیڈی پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ تلاشی کے عمل کو مؤثر اور محفوظ بنایا جا سکے۔