ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بانی پی ٹی آئی کی ایک آنکھ ضائع ہوچکی ہے : علیمہ خان

بانی پی ٹی آئی کی ایک آنکھ ضائع ہوچکی ہے : علیمہ خان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 سٹی 42: علیمہ خانم  نے  کہا کہ  ملک میں ہرجگہ تباہی ہے ۔ اگر مشترکہ طور پر سیاسی حل نہیں نکالا گیا تو حالات بد سے بدترین ہونگے ۔سسٹم سارا کلیپس ہو گیا  ہے ۔
گورکھپور پر ناکے پر علیمہ خانم نے  میڈیا سے گفتگو  کی ۔ انہوں نے کہا بانی پی ٹی ائی کی آنکھ ضائع ہو چکی ہے ۔ظالم اور فیل حکومت جس نے ملک کو قرضوں میں ڈبو دیا ہے۔ایکسپورٹ ختم ہو گئی ہر جگہ پر تباہی ہے 

آپ پٹرول کا نہیں پوچھ رہے مجھ سے کہ پٹرول کتنا مہنگا ہو گیا ہے ۔ظالم حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں کتنا اضافہ کر دیا ۔اگر مشترکہ طور پر سیاسی حل نہیں نکالا گیا تو حالات بد سے بدترین ہونگے ۔سسٹم سارا کلیپس ہو گیا ۔سیاسی سمجھداری کے ساتھ اس معاملے سے نمٹا جائے ۔دنیا میں کہیں ایسا ہوتا کوئی اپنے سینیٹرز ایم پی اے ایم این اے کے لیے راستے بند کرتا ہے ۔ان کے راستے بند کیے جاتے ہیں جو لا میکر ہیں قانون بناتے ہیں اس کا احترام کرتے ہیں ۔آپ دیکھ لیں انہوں نے تو حد ہی کر دی 

 ہر طرف انہوں نے راستے بند کر دیے ۔ ہم بڑی مشکل سے یہاں پہنچے ایک گاؤں سے ہو کر کچھ بھی ہو جائے اگرآج ملاقات نہیں کروائی جاتی۔آج ہم بیٹھیں گے 
 یہیں بیٹھیں گے ۔ اورآپ بھی ہمارے ساتھ بیٹھیں گے یہی ہوں گے ۔ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ کوئی توہین کرے ہمارے وزیراعلی خیبر پختون خواہ کی وہ بھی پنجاب حکومت ہم بیٹھیں گے

 کیونکہ پچھلی بار ہم نے دو ایس ایچ اوز کے ساتھ ڈیل کی تھی۔ہمیں کہا گیا تھا کہ آئندہ منگل کو آپ کی ملاقات کروائی جائے گی۔اس وعدے کے مطابق ہماری ملاقات کروائی جائے ہم تو یہی ہیں ہم بیٹھیں گے ۔وزیر اعلی خیبر پختون خواہ سمیت تمام ایم پی اے ایم این اے بانی کے ایم پی ایم این اے ہیں ۔ 
وہ اپنے لیڈر کے لیے کیوں نہیں آئیں گے وہ آئیں گے ۔

 ایک صحافی کا سوال  کیا کہ کے پی کے میں روز شہادتیں ہو رہی ہیں دہشت گردوں کے حملے ہو رہے ہیں وزیراعلی کا وہاں ہونا ضروری ہے یا یہاں؟

علیمہ خان نے کہا میرا خیال میں وزیراعلی کو یہاں ہونا ضروری ہے ان کی بانی پی ٹی ائی سے ملاقات ضروری  ہے ۔ملاقات ہوگی تو کوئی ڈائریکشن ملے گی کے پی کے میں جو روز شہادتیں ہو رہی ہیں وہ سلسلہ رکے 

 کوئی لائحہ عمل اختیار کیا جائے بانی پی ٹی آئی کی جانب سے ہدایت آئیں گی ۔بانی  کو باہر نکالیں گے وہ باہر آئیں گے ۔بلایا عمل دیں گے جس سے یہ شہادتوں کا سلسلہ بند ہوں۔ان کے دور میں یہ سب کچھ نہیں ہوتا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے وہ ان کو ہینڈل کر سکتے تھے۔جو وہاں دہشت گردی ہو رہی ہے وہ کے پی حکومت کی رسپانسبلٹی نہیں ہے ۔وہ مرکز کی ذمہ داری ہے وہ مرکز کی رسپانسبیلٹی ہے 

کے پی حکومت پر تو وہاں مصیبت ائی ہوئی ہے ۔بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ جب افغانستان اور پاکستان مل کر اکٹھے بیٹھیں گے تو معاملات حل ہوں گے ۔بانی پی ٹی ائی نے اس حوالے سے نو ٹویٹ کیے اپ سارے نکال کے دیکھ لیں۔اپ کو پتہ ہے کہ اگر میں عدالتوں میں پیش نہ ہو تو یہ فوری طور پر میرے وارنٹ گرفتاری نکال دیتے ہیں۔