زاہد چودھری: سپیشلائزڈ ہیلتھ اور صحت و آبادی کے سیکریٹریٹ میں سائلین کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے، جس سے وزٹرز میں شدید پریشانی پیدا ہو گئی ہے۔
دونوں محکموں کے دفاتر میں اب کوئی فریادی داخل نہیں ہو سکتا جبکہ سکیورٹی اہلکار اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں۔
مزید برآں، صحت کے دونوں محکموں کے افسران بھی اخراجات میں کمی کے نام پر دفاتر میں موجود نہیں ہیں، جس کی وجہ سے وزٹرز کو اپنی شکایات اور مسائل کے حل کے لیے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
واضح رہے کہ چند ماہ قبل محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کو شہر کے 5چھوٹے ٹیچنگ ہسپتال چلانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا۔
پانچ چھوٹے ٹیچنگ ہسپتالوں کومحکمہ صحت و بہبود آبادی کے حوالے کرنےپرغور کیا جانے لگا۔گورنمنٹ سیدمٹھا ہسپتال، نواز شریف ہسپتال یکی گیٹ ،میاں منشی ہسپتال ، کوٹ خواجہ سعید ہسپتال اور شاہدرہ ٹیچنگ ہسپتال شامل ہیں ۔
پانچوں علاجگاہوں کو ٹیچنگ ہسپتال کا درجہ دیا گیا لیکن اپ گریڈ نہ ہوسکے۔ان پانچوں علاجگاہوں کو ٹیچنگ کیڈر کے ڈاکٹرز تک نہ مل سکے۔ٹیچنگ کا درجہ ملنے پر مذکورہ ہسپتالوں میں محکمہ صحت نے کنسلٹنٹ بھی فراہم نہ کئے۔
پانچوں ہسپتالوں کو دوبارہ محکمہ صحت کے سپرد کرکے بطور ڈی ایچ کیو ہسپتال چلائے جانے کا فیصلہ طے پایا۔