ویب ڈیسک: کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے واضح کیا ہے کہ کینیڈا ایران جنگ میں کبھی حصہ نہیں لے گا۔
مارک کارنی نے اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کینیڈا کا موقف شفاف اور مستقل ہے، اور وہ کسی بھی فوجی مداخلت میں شامل نہیں ہوگا۔
تاہم، وزیراعظم نے یہ بھی واضح کیا کہ کینیڈا ایسے اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو ایرانی جوہری پروگرام اور دہشت گردی کی برآمد کو روکنے میں مددگار ہوں۔
انہوں نے کہا کہ جی سیون ممالک مشترکہ طور پر ایران میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مشترکہ موقف تلاش کریں گے۔
واضح رہے کہ سیاسی تناظر میں، امریکہ کی ایران پر ممکنہ کارروائی کی حمایت کرنے والے ممالک میں برطانیہ، اسرائیل، اور کچھ خلیجی ممالک شامل ہیں، جبکہ اس مداخلت کے خلاف موقف رکھنے والے ممالک میں کینیڈا، جرمنی، فرانس اور روس نمایاں ہیں، جنہوں نے کسی بھی براہِ راست فوجی عمل میں حصہ لینے سے گریز کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایران کے صدر مسعود پزشکیان تین بنیادی شرائط پیش کر دی ہیں۔
ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے روس اور پاکستان کی قیادت سے گفتگو کے دوران خطے میں امن کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کیا۔
ان کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے، ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کیا جائے جبکہ آئندہ کسی بھی جارحیت سے بچاؤ کے لیے عالمی سطح پر ٹھوس ضمانتیں فراہم کی جائیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع ہونے والے اس تنازع کو ختم کرنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ ایران کے قانونی حقوق کو تسلیم کیا جائے، جنگ سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے اور مستقبل میں حملوں کی روک تھام کے لیے مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں دی جائیں۔