سٹی 42 : پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے حصے کو کم کیا جائے اور وفاق کو دے دیا جائے، جس سے حالات بہتر ہو جائیں گے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پارلیمانی پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چلینجز میں یہ بجٹ پیش ہو رہا ہے، بھارت کے ساتھ پاکستان کی جنگ میں بھارت کو شکست ہوئی، بھارت سے یہ شکست برداشت نہیں ہو رہی، اب وہ کسی نہ کسی طرح آپریشن سندور کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ بھی ایک مسئلہ بنا ہوا ہے، بھارت اور افغانستان کے گٹھ جوڑ سے ہمارے لئے مسئلے سرحدوں پر اور دہشتگردی کی صورت میں پیدا کئے جا رہے ہیں، بلوچستان سے لے کر خیبرپختونخوا تک ہم ان کا مقابلہ کر رہے ہیں، پورے خطے کے جیوپولیٹیکل حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔
چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم ہر ہفتے انتظار کرتے ہیں کہ دنیا میں امن قائم ہو ، خدانخواستہ تیسری عالمی جنگ چھڑ جائے، اس صورتحال کو بھی نظر میں رکھنا پڑرہا ہے، اس سلسلے میں اسٹریجیک فیصلوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے حصے کو کم کیا جائے اور وفاق کو دے دیا جائے، جس سے حالات بہتر ہو جائیں گے۔
حکومت کی جانب سے نہ ریونیو جنریشن میں کام کیا جاتا ہے، ایف بی آر نہ صوبہ سندھ کے ریونیو جنریشن کا مقابلہ کر سکتا ہے نہ بلوچستان کا مقابلہ کر سکتا ہے، اور نہ ہی پنجاب اور کے پی کے ریونیو کا مقابلہ کر سکتا ہے، اس سے بہتر ہے کہ ایف بی آر بند ہو جائے، اور اپنے سارے اختیارات صوبائی ریونیو بورڈز کو دے دیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ جو نیشنل سکیورٹی کی ضروریات ہیں ان کے لئے تمام سیاسی جماعتوں میں ہم نے مل کر ایک حل نکالا ، جہاں ہم تمام اخراجات پورا کرسکیں اور جو صوبے کے وسائل اور حصہ ہیں ان میں کمی نہ ہو ۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آئینی طریقہ کار اختیار کریں، اس کے بجائے کہ ہم وفاق سے بات کریں، صوبے وفاق سے بات کر رہے ہیں۔ اتحادی جماعتوں کے ساتھ بات کریں کہ آپ ہمارے عوام کو اور جہاں سے ہم منتخب ہوکر آئے ہیں وہاں ہم کیسے منصوبے دے رہے ہیں، تاکہ ان ایشوز کو ایڈریس کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ ہم وفاق سے بات کر رہے تھے کہ ہم آپ کو کتنا پیسہ دے سکتے ہیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ یہ سیاست اور پارلیمان کی کامیابی ہے کہ ہم کسی نتیجے پر پہنچے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ تمام صوبے اور وفاق مل کرقومی سکیورٹی کی ضروریات میں حصہ ڈالیں گے، یہ کسی صوبے کے این ایف سے کے شیئر کو کم کرنے یا اٹھارہویں ترمیم کو بدلنے سے نہیں ہوگا، یہ آئین میں ہے کہ اگر صوبائی حکومت نے اس مد میں خرچ کرنا ہے جو ان کی فہرست میں نہیں ہے یا وفاقی حکومت نے کسی ایسی چیز پر خرچ کرنا ہے جو ان کی فہرست میں نہیں ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو آئین کے تحت یہ اختیار ہے کہ وہ گرانٹ دے سکتے ہیں، اس آئینی طریقہ کر کو استعمال کرکے صوبہ سندھ اور بلوچستان نے مشکل لیکن آئینی ، وفاقی اور اجتماعی نتیجے پر پہنچ گئے ہیں، یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نتیجے پر پہنچنے کے لئے پاکستان پیپلزپارٹی کے لوگ وفاقی حکومت سے مذاکرات کرتے رہے، نوید قمر، شیری رحمان ، مراد علی شاہ اور جام خان شورو کا شکرگزار ہوں کہ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ اور بلوچستان کا وفاق کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے، اگلے تین سال کے لئے ہم اس میں حصہ ڈالیں گے، جب تک ہم یہ ضروریات پوری کر رہے ہیں تب تک این ایف سی ایوارڈ کو نہیں چھیڑا جائے، جو ہم یہ حصہ ڈال رہے ہیں وہ ہم این ایف سی 7- کے بیس لائن فارمولے پر طے ہوا ہے۔