ویب ڈیسک : سندھ کا مالی سال 2025-26ء کا بجٹ کل پیش کیا جائے گا، 3 ہزار ارب روپے سے زائد مالیت کا بجٹ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ پیش کریں گے۔
قائم مقام گورنر سندھ اویس قادر شاہ نے سندھ اسمبلی کا اجلاس کل 3 بجے طلب کرلیا، سندھ اسمبلی کے اجلاس سے پہلے صوبائی کابینہ کا اجلاس صبح 10 بجے ہوگا۔ سندھ کابینہ سے نئے مالی سال کے بجٹ کی منظوری لی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق سندھ بجٹ میں ٹیکس وصولی کی شرح میں اضافے کا امکان ہے۔ سندھ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ نئے مالی سال میں ٹرانسپورٹ کے نئے منصوبے شروع ہونے کا امکان ہے۔ سندھ کے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کیا جائے گا۔ بجٹ میں مختلف محکموں کی ترقیاتی سکیموں پر160 ارب روپے کی بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے۔
محکمہ داخلہ، زراعت، جیل خانہ جات، انرجی سمیت دس محکموں کی 1168سکیمیں شامل ہیں۔ محکمہ ورکس اینڈ سروسز بشمول جیلوں کی 675 سکیموں کیلئے 80 ارب روپے کی بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے۔
داخلہ کے لئے 11 ارب، صحت کے لئے 51 ارب، سکول ایجوکیشن کے لئے 8 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ زراعت، سپلائی اور پرائیسز کی 60 سکیموں کیلئے 9.7 ارب روپے کی بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے۔ لائیوسٹاک اینڈ فشریز کی 38 سکیموں کیلئے 4.9 ارب روپے کی بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے۔ کلچر، ٹورزم، آرکائیوز اینڈ اینٹیکیوٹیز کی 44 سکیموں کیلئے 2.8 ارب روپے کی بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے۔ سپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز کی 210 سکیموں کیلئے 6.5 ارب روپے کی بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے۔ سروسز اینڈ جنرل اینڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن کی 77 سکیموں کیلئے 39 ارب روپے کی بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے۔ انڈسٹریز اینڈ کامرس کی 1.8 ارب روپے، انویسٹمنٹ ڈپارٹمنٹ کی 2 سکیموں کیلئے 0.4 ارب روپے بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے۔
انرجی ڈپارٹمنٹ کی 16 سکیموں کیلئے 12.8 ارب روپے کی بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے۔ پلاننگ اینڈ ڈولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی 28 سکیموں کیلئے 12.7 اب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔