ویب ڈیسک: بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ گلوکار سدھو موسے والا کے اندوہناک قتل کی نئی معلومات سامنے آگئیں۔
قتل کے ماسٹر مائنڈ گینگسٹر گولڈی برار نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا جس میں اس نے 2022 میں دن دیہاڑے قتل کی واردات سے متعلق تفصیلات بتائیں۔
گینگسٹر نے بتایا کہ سدھو موسے والا کی اکڑ برداشت سے باہر ہوگئی تھی، اس نے ایسی غلطیاں کیں جنہیں معاف نہیں کیا جاسکتا تھا، ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا، یا وہ بچتا یا ہم۔
قتل کی وجہ بتاتے ہوئے گولڈی برار نے مزید کہا کہ سدھو موسے والا اور گینگ لیڈر لارنس بشنوی 2018 سے رابطے میں تھے۔
گولڈی برار کے مطابق گلوکار سدھو موسے والا لارنس بشنوئی کو گڈ مارننگ اور گڈ نائٹ کے میسیجز بھیجتے تھے مگر جب سدھو نے ہمارے مخالف بمبیہا گینگ کے کبڈی ٹورنامنٹ کو سپورٹ کیا تو بشنوی ناراض ہوگئے۔
بعد ازاں لارنس بشنوی کے قریبی ساتھی وکی مدھوکھیڑا کے قتل نے سدھو اور بشنوئی کے تعلقات کو مزید بگاڑا۔
پولیس کی تحقیقات کے مطابق بھی سدھو موسے والا کے قریبی دوست شگنپریت سنگھ کو اس قتل میں سہولت کار قرار دیا گیا تھا، قتل کی واردات میں اپنے دوست کے ملوث ہونے کی سدھو موسے والا نے ہمیشہ تردید کی لیکن گینگسٹرز نے مان لیا کہ سدھو دشمن گینگ کے ساتھ کھڑا تھا۔
گولڈی برار کا کہنا تھا کہ ہم نے کئی بار انصاف کی کوشش کی لیکن جب ناکامی اٹھانا پڑی تو فیصلہ لینا پڑا، جب شرافت کو کوئی نہ سنے تو بندوق کی آواز سنی جاتی ہے۔
جب گینگسٹر سے سوال کیا گیا کہ بھارت میں قانون اور انصاف کا نظام موجود ہے تو برار نے جواب دیا کہ یہ سب صرف طاقتور لوگوں کے لیے ہے،عام لوگوں کو انصاف نہیں ملتا۔
واضح رہے کہ سدھو موسے والا کا اصل نام شبھدیپ سنگھ تھا جنہیں 29 مئی 2022 کو ضلع مانسا کے گاؤں جواہر میں نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔
اس واقعے میں سدھو کی گاڑی پر 30 گولیاں برسائی گئی تھیں جس کے نتیجے میں سدھو موسے والا موقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے جب کہ ان کی گاڑی میں موجود 2 افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔