سٹی42: پاکستان کی پارلیمنٹ میں کوئی کردار ادا کرنے میں ناکام ہونے کے بعد پی ٹی آئی اب ایک بار پھر "سڑکوں پر سیاست کرنے " کی کوشش کرنے کے لئے انگلینڈ میں مقیم برٹش شہری جمائما گولڈ سمتھ اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بییٹوں سلمان خان اور قاسم خان کو پاکستان بلوا کر ان کو سڑکوں پر کھما کر کوئی "تحریک" چلوانا چاہتی ہے جس کے مقاصد اور خدوْخال ابھی سامنے نہیں لائے گئے۔ اس دوران یہ سوالات کئے جا رہے ہیں کہ قاسم خان اور سلمان خان انگلینڈ کے شہری ہیں یا پاکستان کے شہری بھی ہیں۔ ان کی والدہ کی کیا شہریت ہے۔
یہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا برطانیہ کا کوئی شہری پاکستان آ کر پاکستان کی ریاست کے خلاف سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث ملزم کو جیل سے رہا کروانے کے لئے عوام کو سڑکوں پر آ کر "احتجاج" کرنے کے لئے اکسانے کا حق رکھتا ہے یا نہیں۔
پی ٹی آئی کے رہنما بضد ہیں کہ قاسم اور سلمان پاکستان آ کر اپنے اڈیالہ جیل میں طویل قید کا پہلا سال کاٹنے والے باپ کی رہائی کے لئے تحریک چلانے کا پورا حق رکھتے ہیں۔ بانی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے تو یہاں تک کہا کہ یہ ان کا بنیادی حق ہے۔
سلمان اور قاسم انگلینڈ میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش ہائی
عمران خان کے جمائما گولڈ اسمتھ سے پہلی شادی سے دو بیٹے ہیں - سلیمان عیسیٰ خان (نومبر 1996 میں پیدا ہوئے) اور قاسم خان (اپریل 1999 میں پیدا ہوئے)
یہ دونوں لڑکے لندن میں پیدا ہوئے تھے اور ان کی پرورش بنیادی طور پر برطانیہ میں اپنی برطانوی ماں کے ساتھ ہوئی ہے۔ اس طرح، وہ برطانوی شہریت رکھتے تھے۔ اپنے والد کی پاکستانی شہریت اور پاکستان کے ساتھ ان کے قانونی تعلقات کے باوجود سلمان اور قاسم پاکستانی شہریت نہیں رکھتے۔
چیٹ جی پی ٹی سے پوچھیں تو وہ کسی واضح دستاویزی ثبوت کے بغیر ہی ان دونوں کے متعلق بتاتا ہے کہ وہ دوہری برطانوی-پاکستانی شہری رکھتے ہیں۔ لیکن اب تک ایسی کوئی دستاویز سامنے نہیں آ سکی جس سے عمران خان کے دو بیٹوں کے پاکستان کا شہری ہونے کی تصدیق ہو سکے۔
اس کا خلاصہ:
سلیمان عیسیٰ خان – برطانوی شہری، عمر 29 سال
قاسم خان – برطانوی شہری، عمر 26 سال
جمائما گولڈ سمتھ کی کیا شہریت ہے
سلیمان عیسیٰ خان اور قاسم خان جمائما گولڈ سمتھ کے بیٹے ہیں۔ جمائما خود بھی پاکستانی شہری نہیں ہیں۔
جمائما گولڈ اسمتھ برطانیہ میں پیدا ہوئیں اور برطانوی شہریت رکھتی ہیں۔
عمران خان سے شادی کرنے کے شادی کے بعد جمائما لندن سے کچھ سال کے لئے چلی گئیں لیکن وہ کبھی پاکستانی شہری نہیں بنیں۔ درحقیقت، انہیں اپنی برطانوی شہریت اور پاکستان کے سیاسی اور قانونی نظام کی پیچیدہ نوعیت کی وجہ سے کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کے دو بیٹے سلیمان اور قاسم اپنے والد کی پاکستانی شہریت کے باوجود برطانیہ میں پیدا ہونے کے سبب اپنی جائے پیدائش کی وجہ سے برٹش شہریت رکھتے ہیں۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ ان کے پاکستانی والد نے کبھی انہیں پاکستان کا شہری بنانے کے لئے قانونی کارروائی کے لئے کوئی درخواست دی ہو۔ اب تک سامنے موجود شواہد کے مطابق سلمان اور کے پاس برطانوی اور پاکستانی دونوں ملکوں کی شہریت کے حقوق ہیں، لیکن جمائما خود برطانوی ہونے کی وجہ سے پاکستانی شہری نہیں ہیں۔
خلاصہ یہ کہ جمائما گولڈ اسمتھ پاکستانی شہری نہیں ہیں، لیکن ان کے بیٹے سلیمان اور قاسم اپنے والد کی قومیت اور جائے پیدائش کی وجہ سے برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔ an ان کے والد نے انہیں پاکستانی شہری کی قانونی حیثیت دلوانے کے لئے کبھی قانونی کارروائی نہیں کی۔
عمران خان کے بیٹے پاکستان آئیں گے بیٹی نہیں آئے گی
دلچسپ بات یہ ہے کہ لندن میں جمائما گولڈ سمتھ کے ساتھ ان کے اور عمران کے دو بیٹوں کے ساتھ عمران کی سیتا وائٹ سے بیٹی ٹیرین وائٹ بھی رہتی ہے۔ ٹیرین وائٹ امریکی شہری ہے اور اب غالباً برٹش شہری بھی ہے، وہ اپنے والد سے ملنے کے لئے پاکستان کبھی نہیں آئی۔ اب بھی عمران خان کے صرف دو بیٹے ان کو جیل سے نکلوانے کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے پاکستان آئیں گے لیکن ان کی بیٹی ٹیرین وائٹ پاکستان سے دور ہی رہے گی۔
ٹیریان جیڈ وائٹ عرف ٹیریان خان کون ہیں؟
1987 میں، عمران خان، 1980 اور 1990 کی دہائیوں کےمشہور بیچلر کرکٹر، مبینہ طور پر 1987 میں سیتا وائٹ سے ملے۔ آنجہانی برطانوی صنعت کار نیز ایک ممتاز امریکی صنعت کاراور ارب پتی لارڈ گورڈن وائٹ کی بیٹی اور وارث، سیتا وائٹ نوجوان کرکٹر عمران خان کے ساتھ فوری طور پر محبت میں گرفتار ہو گئی. دوسرے مختصر رشتوں کے برعکس، سیتا وائٹ کے ساتھ عمران کا رشتہ چھ سال سے زیادہ چلا۔
اطلاعات کے مطابق، عمران اور سیتا نے 1991 میں ایک بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ کیا، اور ان کی بیٹی ٹائرین جیڈ جون 1992 میں لاس اینجلس کے سیڈرس-سینائی میڈیکل سینٹر میں پیدا ہوئی۔
عمران خان نے مبینہ طور پر ٹیریان کو اپنی بیٹی کے طور پر قبول کرنے سے انکار کر دیا تاہم لاس اینجلس کی ایک عدالت نے سیتا وائٹ کی درخواست پر 1997 میں طویل سامعت کے بعد فیصلہ دیا کہ عمران خان ٹائرین کے والد ہیں۔ Tyrian کی والدہ 13 مئی 2004 کو 43 سال کی عمر میں ولادت کی پیچیدگیوں کے اثرات کی وجہ سے انتقال کر گئیں۔ سیتا وائٹ نے 27 فروری 2004 کی اپنی وصیت میں، جمائما خان کو اپنی بیٹی ٹیریان جیڈ خان وائٹ کا سرپرست مقرر کیا تھا۔
ٹیرین کی پرورش بنیادی طور پر اس کی مادی والدہ اور بعد میں جمائما گولڈ سمتھ نے کیلیفورنیا میں کی تھی۔ اسے اپنے دو خوبصورت سوتیلے بھائیوں کے برعکس اپنے والد سے وہ پیار نہیں ملا جس کی وہ حقدار تھی۔ اپنے ابتدائی سالوں میں، اس نے نسبتاً نجی زندگی گزاری اور سپاٹ لائٹ سے گریز کیا۔
ٹیرین Tyrian اپنی پیدائش کے تنازعہ اور اپنے والدین کے درمیان زچگی کے تنازعہ کے باوجود اپنے لیے ایک کامیاب زندگی بنانے میں کامیاب رہی۔ اس نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں کام کرنا جاری رکھا۔ اپنے سیاسی مزاج کی وجہ سے، عمران خان نے ٹیرین کے ساتھ بظاہر کوئی رابطہ نہیں رکھا، جیسا کہ اس حقیقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان دونوں کی صرف ایک تصویر آن لائن ہ گردش کرتی ہے۔ یہ تصویر اس وقت کی ہے جن ٹیریان غالباً دس سال سے کم عمر کی تھیں۔
ٹیرین وائٹ فی الحال سوشل میڈیا پر اعتدال سے متحرک ہے اور ایک ٹویٹر اکاؤنٹ (@Tyriankwhite) اور ایک فیس بک اکاؤنٹ (Tyriankwhite) کو استعمال کرتی ہیں۔ ان دونوں ہینڈلز میں حرف K دراصل خان کا مخفف ہے۔
ٹیرین کی ٹویٹر پروفائل تصویر میں، وہ فخر اور خوشی کے ساتھ اپنے دو خوبصورت سوتیلے بھائیوں کے درمیان کھڑی دیکھی جا سکتی ہے۔ کچھ ذرائع کے مطابق، اس حقیقت کے باوجود کہ اس کی ٹویٹر لوکیشن سے پتہ چلتا ہے کہ وہ نیویارک میں ہیں، وہ لندن میں اپنی سوتیلی ماں اور سوتیلے بھائیوں کے ساتھ رہ رہی ہیں جو کہ ایک ساتھ رہنے میں لطف اندوز ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر کبھی کبھار اپنی مسکراتے ہوئے اور خوش ہوتے ہوئے تصاویر بھی پوسٹ کرتے ہیں۔ جمائما نے طلاق یافتہ ہونے کے باوجود، عمران خان کے ساتھ وابستگی برقرار رکھی۔ جب ان کے سابق شوہر کے پاس پاکستان کی عدالت میں بنی گالا میں سینکڑوں ایکڑ زمین خریدنے کے لئے رقم کے ذرائع بتانے کے لئے کچھ نہیں تھا تو جمائما نے دعویٰ کیا کہ اس مہنگی پراپرٹی کو خریدنے کے لےئ رقم انہوں نے لندن سے بھیجی تھی، جمائما نے کوئی بینک ٹرانزیکشن نہین دیا اور یہ دلچسپ کہانی لکھ کر بھیجی کہ وہ بینک بند ہو چکا ہے جس سے ٹرانزیکش کیا تھا، پھر جمائما نے بتایا کہ انہوں نے رقم امریکہ میں مقیم ایک بزنس مین کو دی تھی جس نے اسے عمران خان کو پہنچایا تھا۔
جمائما کے متعلق عام تاثر ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کے ساتھ سوتیلی بیٹی کا بہت خیال رکھتی ہیں۔
عمران خان کی بہت سی گرل فرینڈز رہیں لیکن تعلق ختم ہونے کے بعد جمائما خان کے سوا کسی نے مڑ کر ان کے ساتھ رابطہ نہیں رکھا
برطانوی اخبار، "دی ٹائمز" نےعمران خان کی متعدد گرل فرینڈز کو "پراسرار بلونڈز" کے نام سے بیان کیا کیونکہ اس وقت عمران کی شہرت ایک سنیاسی بیچلر اور پلے بوائے کے طور پر تھی جو لندن کے نائٹ کلبوں میں اکثر آتے تھے۔ زینت امان، سارہ کرولی، سٹیفنی بیچم، گولڈی ہان، کرسٹیان بیکر، سوسنہ کانسٹینٹائن، میری ہیلوین، کیرولین کیلیٹ، لیزا کیمبل، ایناستاسیا کوک، ہنہ میری روتھسائلڈ اور لولو بلیک ان میں شامل تھے۔
ایما سارجنٹ، ایک آرٹسٹ اور برطانوی سرمایہ کار سر پیٹرک سارجنٹ کی بیٹی، 1982 سے لے کر 1986 میں ان کے تعلق کے ٹوٹنے تک ان کی گرل فرینڈ تھیں۔ وہ پاکستان میں اکثر آتی جاتی تھیں۔ اس کے بعد، عمران کا مصور سوسی مرے-فلپسن کے ساتھ ایک مختصر تعلق رہا، جس نے ایک ساتھ اپنے وقت کے دوران خان کے کئی فنکارانہ پورٹریٹ پینٹ کیے تھے۔
یہ بات ایک معمہ بنی ہوئی ہے کہ عمران کب اور کیسے ایک "متقی اور باعمل مسلمان"، ایک "باکمال انسان دوست"، ایک معلم، ایک مصلح، ایک سیاست دان، اور ایک "ماہر ماحولیات" میں بدل گئے۔
وزیراعظم کی حیثیت سے عمران خان نے چار سال پاکستاان پر حکومت کی جس کے دوران ان پر کرپشن کے کئی سنگین الزام لگے اور وزیراعظم ہاؤس سے نکلنے کے بعد انہوں نے 9 مئی 2023 کو اپنی گرفتاری کے فوراً بعد اپنے کارکنوں سے پاکستان کی درجنوں فوجی تنصیبات پر جو حملے کروائے ان ان کے مقدمے عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کے فیصلے آئندہ کچھ ماہ میں ہونے والے ہیں۔ اس دوران ان پر توشہ خانہ سے کچھ قیمتی تحائف حاصل رک کے بیچنے اور آمدن کو ٹیکس کے اداروں سے چھپانے اور ایک بدنام پراپرٹی ٹائیکون سے رشوت کے عوض ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کی خطیر رقم پاکستانی خزانے کی بجائے اس پراپرٹی تائیکون کا جرمانہ ادا کرنے کے لئے استعمال کرنے، پاکستان کے ریاستی راز پبلک کے سامنے افشا کرنے اور طلاق یافتہ خاتون کے ساتھ ان کی عدت کے دوران ہی نکاح کر لینے کے جرائم کے مقدمات کے بھی فیصلے ہوئے۔ اس وقت عمران خان ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس کی سزا کا پہلا سال کاٹ رہے ہیں اور ان پر نو مئی کے پر تشدد حملوں کے سنگین ترین مقدمات چل رہے ہیں جن کا فیصلہ آئندہ کچھ ماہ میں بہرحال ہونا متوقع ہے کیونکہ سپریم کورٹ کا یہی حکم ہے کہ ان مقدمات کے فیصلے جلد کئے جائیں۔