ملک اشرف : لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار کی جانب سے دائر ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر وکلاء کو 13 فروری کو حتمی دلائل پیش کرنے کے لیے طلب کر لیا۔
جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے عثمان ڈار کی درخواست پر سماعت کی ، وزارت داخلہ کی جانب سے تازہ جواب عدالت میں پیش کیا گیا۔ سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزارت داخلہ نے عثمان ڈار کا نام ای سی ایل میں شامل کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عثمان ڈار کی جانب سے ای سی ایل فیصلے کے خلاف دائر نظرثانی درخواست وفاقی حکومت کے پاس زیرِ سماعت ہے، اور درخواست میں نئی استدعا شامل کرنا قانونی اصولوں کے منافی ہے۔
جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے ریمارکس دیے کہ کہ ای سی ایل سے متعلق درخواستوں کا جلد فیصلہ ہونا چاہیے تاکہ متعلقہ فریقین کو قانونی یقینی فراہم ہو سکے۔ عدالت کی جانب سے سماعت 13 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کو ہدایت دی گئی کہ وہ حتمی دلائل پیش کریں۔