سٹی42: جموں و کشمیر میں بارش نہ ہونے کے سبب خشک سالی والی حالت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ پینے کے پانی کی قلت کا خطرہ ہے اور جہلم دریا میں پانی کم ہو گیا ہے۔ سخت سردی کے درمیان متعلقہ ادارہ نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔
بھارت کے میٹ ڈیپارٹمنٹ (محکمہ موسمیات) نے آج الرٹ جاری کیا جس مین تصدیق کی گئی ہے کہ جموں و کشمیر میں خاصی شدید نوعیت کی خشک سالی چل رہی ہے۔ پاکستان کا میت ڈیپارٹمنٹ پہلے ہی سردیوں کے دوران کشمیر میں برف باری کم ہونے اور بارش بھی کم ہونے کی نشان دہی کر چکا ہے۔
بھارت کے محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں یکم نومبر سے 9 دسمبر کے درمیان صرف 6.1 ملی میٹر بارش ہوئی ہے، جبکہ جموں و کشمیر میں اس وقت کے لیے عام اوسط 43.1 ملی میٹر ہے۔ اب تک ہوئی بارش معمول کے اوسط سے چھ گنا کم ہے۔
پانی کی قلت اور خشک سالی کا الرٹ
جموں و کشمیر میں طویل عرصہ سے بارش نہ ہونے اور شدید سردی کے باعث خشک سالی والی حالت پیدا ہو گئی ہے۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کر دیا جس میں بتایا گیا ہے کہ پورے علاقے میں پانی کی کمی اور خشک سالی جیسے حالات بن سکتے ہیں۔ جموں و کشمیر میں بارش میں تقریباً 86 فیصد کی کمی درج کی گئی ہے، جس کی وجہ سے جھیلوں اور ندیوں میں پانی کی سطح کم ہو گئی ہے اور جنگل میں آگ لگنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے ذریعہ جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں ہفتہ (یکم نومبر) سے منگل (9 دسمبر) کے درمیان صرف 6.1 ملی میٹر بارش ہوئی ہے، جموں و کشمیر میں اس وقت کے لیے عام اوسط 43.1 ملی میٹر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بارش میں 86 فیصد کی بھاری کمی ہوئی ہے۔ جموں ڈویژن میں 82.6 فیصد اور کشمیر ڈویژن میں 82.1 فیصد، جو حالیہ سالوں میں سردیوں کے سب سے خشک شروعاتی دور میں سے ایک ہے۔
سرینگر میں بارش میں 83.3 فیصد کی کمی رہی، جبکہ جموں میں یہ 71.5 فیصد تھی۔
کشمیر کے دوسرے اضلاع میں بھی بارش کی کافی کمی دیکھی گئی۔ کلگام اور شوپیاں میں سب سے زیادہ 90.5 فیصد کی کمی سامنے آئی۔ گندیربل میں 88 فیصد، بارامولہ میں 87.7 فیصد، بانڈی پورا میں 81.5 فیصد، بڈگام میں 77.5 فیصد، کپواڑا میں 77.4 فیصد، اننت ناگ میں 75.5 فیصد اور پلوامہ میں 60.7 فیصد کی کمی رہی۔
جموں ڈویژن میں خشک سالی زیادہ شدید دیکھی جا رہی ہے۔ کٹھوعہ اور کشتواڑ میں سب سے زیادہ 100 فیصد کی کمی رہی۔ راجوری میں 93.5 فیصد، پونچھ میں 90.4 فیصد، ڈوڈا میں 90.2 فیصد، سانبا میں 88.0 فیصد، اودھم پور میں 83.1 فیصد، رام بن میں 72.9 فیصد اور ریاسی میں 31.2 فیصد کی کمی رہی۔
جہلم اور معاون ندیوں میں پانی کم ہو گیا
طویل عرصے سے جاری خشک سالی کا اثر علاقے کے آبی ذرائع پر پڑنے لگا ہے۔ سنگم پر جہلم ندی کی پانی کی سطح 0.59 فیصد تک گر گئی ہے، جو زیرو-گیج لیول سے نیچے چلی گئی ہے۔ جہلم کی معاون ندیوں میں خودوانی میں وائیشا شامل ہے، جو کُلگام میں کوثر ناگ-اہربل سے نکلتی ہے۔ کوکرناگ میں برینگی نالہ، ویریناگ میں سندرن نالہ اور ویتھ-وتھاستو نالہ، ترال میں ایریپل آبشار اور پلوامہ میں ٹونگری اور رومشی نالہ بھی معمول سے بہت نیچے بہہ رہے ہیں اور کچھ حصوں میں سوکھ بھی گئے ہیں۔
پینے کی پانی کی قلت کا خطرہ
خشک سالی کا اثر پہلے ہی روزمرہ کی زندگی پر پڑنے لگا ہے۔ کئی علاقوں میں پینے کے پانی کی کمی کی خبر ہے۔ خاص طور پر شمالی کشمیر کے بارامولہ اور کپواڑا اضلاع میں، جو آبپاشی اور پینے کے لیے بھی ندی کے پانی پر منحصر ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ ہفتہ کوئی خاص بارش یا برف باری کی امید نہیں ہے، اس لیے جہلم اور اس کی معاون ندیوں کے پانی کی سطح مزید کم ہونے کی امید ہے۔
بھارت کے ماہرین موسمیات نے کہا کہ مسلسل خشک موسم ہونے کے سبب جموں و کشمیر کے کئی علاقوں میں جنگل کی آگ بھی بڑھ گئی ہے۔
ایک آزاد ’فورکاسٹر‘ (پیشین گوئی کرنے والے) نے کہا کہ ’’سوکھے درختوں اور پودوں میں نمی کی کمی اور سطح کے زیادہ گرم ہونے سے ہمالیہ کی ترائی کی جنگلوں میں آگ لگنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔‘‘ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر بارش میں مسلسل کمی طویل عرصے تک رہی تو زراعت، پانی جمع کرنے، سردیوں میں برف باری جمع ہونے اور علاقے کے پورے ماحولیاتی توازن پر بہت برا اثر پڑ سکتا ہے۔