سٹی42: پنجاب پولیس نے پی ٹی آئی کے بانی کی بہنوں کو حراست میں لے لیا۔
راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر علیمہ خان اور نورین خان اپنے کارکنوں کے ساتھ تاحال موجود ہیں۔
پولیس نے داہگل ناکہ پر پہلے کئی کارکنوں کو حراست میں لیکر قیدی وین میں بٹھا دیا۔ موقع پر موجود صحافیوں کے مطابق موقع سے 6 کارکنان کو حراست میں لیکر قیدی وین میں بٹھا دیا گیا تھا۔
بعد میں پولیس نے علیمہ خان اور نورین خان کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے پہلے سے حراست میں لیے گئے کارکنوں کو قیدی وین سے نکال کر چھوڑ دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق
علیمہ خان اور نورین نیازی کو تحویل میں لینےکے بعد پولیس دونوں کو لے کر چکری انٹر چینج کی طرف چلی گئی جبکہ پولیس نے عمران خان کی بہنوں کے ساتھ حراست میں لیےگئے پی ٹی آئی کے 9 کارکنوں کو رہا کر دیا۔
علیمہ خان اور نورین نیازی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر اڈیالہ جیل کے قریب داہگل ناکے پر دھرنا دے رکھا تھا۔
اس سے پہلے پولیس حکام نے علیمہ خان اورنورین نیازی سے واپس جانے کی درخواست کی تھی۔
تحویل میں لیے جانے سے قبل علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اوپن ٹرائل کا کوئی تقاضا پورا نہیں کیا جارہا، بانی پی ٹی آئی کو یہ ریلیف نہیں دینا چاہتے کیونکہ پھر سب کو آزاد کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو اپنا ڈر پڑا ہوا ہے، آج ہم اڈیالہ جیل ملاقات کیلئے آئے تھے مگر ہمیں جیل سے 2 کلو میٹر دور روک دیاگیا۔